استنبول: پاکستان اور ترکیہ نے اپنے تاریخی تعلقات کو معاشی شراکت داری میں بدلنے کے لیے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے دوطرفہ تجارت کا حجم 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان استنبول میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔
ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات محض سیاسی نہیں بلکہ مشترکہ اقدار، ثقافت اور مذہبی اخوت میں جڑے ہوئے ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دوطرفہ تجارت کو موجودہ سطح سے بڑھا کر 5 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے ترجیحی تجارتی معاہدے (PTA) کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے گا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے:
وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے استنبول میں ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس خطاب کیا۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ شاندار استقبال اور بھرپور میزبانی پرصدر رجب طیب اردوان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے… pic.twitter.com/KUR1fIO4lb
— Prime Minister's Office (@PakPMO) July 4, 2026
خصوصی اقتصادی زونز: کراچی میں ترک سرمایہ کاروں کے لیے خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) کے قیام پر کام تیزی سے جاری ہے۔
شعبہ جات: دفاعی صنعت، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹرانسپورٹ اور اہم معدنیات کے شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کیے جائیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ترک صدر کی قیادت میں ترکیہ کی غیر معمولی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ترکیہ کے ساتھ اپنی لازوال دوستی پر ناز ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک "ایک جان، دو قالب” کی حیثیت رکھتے ہیں، جہاں علامہ اقبال اور مولانا رومی جیسے عظیم مفکرین کے افکار ہماری دوستی کے ستون ہیں۔ وزیراعظم نے کشمیر کے معاملے پر ترکیہ کے غیر متزلزل مؤقف کا شکریہ ادا کیا اور قبرص کے معاملے پر پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے بلوچستان میں بس حادثے میں ہونے والی ہلاکتوں پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ پاکستان کے ساتھ ہر مشکل گھڑی میں کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی دفاعی اور صنعتی شعبوں میں تکنیکی معاونت فراہم کرتا رہے گا۔ صدر اردوان نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس (B2B) رابطوں کو مزید مستحکم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ ترکیہ کی جنگ آزادی ہو یا پاکستان کی مشکلات کا دور، دونوں قومیں ہمیشہ ایک دوسرے کی ڈھال بنی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس تاریخی قربت کو پائیدار معاشی خوشحالی میں تبدیل کیا جائے۔
یہ ملاقات خطے میں ایک نئی اقتصادی شراکت داری کے آغاز کی نوید ثابت ہو رہی ہے، جس سے نہ صرف دونوں ممالک کی معیشتیں مضبوط ہوں گی بلکہ باہمی انحصار کے نئے دور کا بھی آغاز ہوگا۔

