نواب شاہ (رپورٹ نفیس آرائیں)
نواب شاہ شہر میں متعدد دکانوں کو سیل کرکے ان کے باہر نوٹس چسپاں کر دیے گئے ہیں، تاہم ان نوٹسوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔
دکانوں پر آویزاں نوٹس میں سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ سکھر کے احکامات کا حوالہ دیا گیا ہے اور متعلقہ دکانداروں کو دکانیں خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، تاہم چسپاں کیے گئے نوٹسوں پر نہ تو کسی سرکاری ادارے کی سرکاری مہر ثبت ہے اور نہ ہی کسی مجاز سرکاری افسر کے دستخط موجود ہیں۔
متاثرہ دکانداروں کا کہنا ہے کہ انہی غیر دستخط شدہ نوٹسوں کی بنیاد پر تمام دکانوں کو سیل کر دیا گیا ہے، جس کے باعث وہ شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب کسی سرکاری نوٹس پر مہر اور مجاز افسر کے دستخط موجود نہ ہوں تو اس کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔
دوسری جانب نوٹس میں سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ دکانوں میں داخل ہونے، سامان منتقل کرنے یا سرکاری سیل سے چھیڑ چھاڑ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
متاثرین نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی وضاحت کی جائے اور بتایا جائے کہ آیا بغیر سرکاری مہر اور مجاز افسر کے دستخط کے ایسے نوٹس جاری کرنا اور ان کی بنیاد پر دکانیں سیل کرنا قانونی تقاضوں کے مطابق ہے یا نہیں۔

