نواب شاہ (رپورٹ نفیس آرائیں)\
شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی، شہید بینظیر آباد کی 20ویں فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کا اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مدد علی شاہ کی زیر صدارت سنڈیکیٹ ہال میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مختلف فیکلٹیوں کے ڈینز، ہائر ایجوکیشن کمیشن، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں اور یونیورسٹی کے سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران یونیورسٹی کے ڈائریکٹر فنانس اشفاق حسین شیخ نے مالی سال 2026–27 کے سالانہ بجٹ، مالی سال 2025–26 کے نظرثانی شدہ اور حتمی اخراجات، ملازمین کے لیے ریلیف الاؤنس، پنشن اصلاحات اور یونیورسٹی کے سرمایہ کاری فنڈز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025–26 کے دوران مالی نظم و ضبط، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور وسائل کے مؤثر استعمال کے باعث مین کیمپس کے لیے منظور شدہ 1,170.000 ملین روپے کے بجٹ کے مقابلے میں صرف 978.612 ملین روپے خرچ کیے گئے، جس کے نتیجے میں 191.388 ملین روپے کی بچت ہوئی، جو مجموعی بجٹ کا 16 فیصد سے زائد بنتی ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ بچت انتظامی اخراجات پر مؤثر کنٹرول، غیر ضروری مصارف میں کمی اور کم ترجیحی منصوبوں کو عارضی طور پر مؤخر کرنے سے ممکن ہوئی، جبکہ یونیورسٹی کے تینوں کیمپسز میں تدریسی اور انتظامی خدمات کا معیار مکمل طور پر برقرار رکھا گیا۔کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ مالی سال 2025–26 کے دوران مین کیمپس کی متوقع آمدنی 1,176.378 ملین روپے کے مقابلے میں 1,204.759 ملین روپے وصول ہوئے، جو مقررہ ہدف سے 28.381 ملین روپے زیادہ ہیں۔ مزید برآں، یونیورسٹی کے سرمایہ کاری فنڈز سے مالی سال 2025–26 کے دوران 182.658 ملین روپے کی آمدنی حاصل ہوئی، جو تعلیمی سرگرمیوں، اسکالرشپس، انتظامی ضروریات اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی گئی۔اجلاس میں مالی سال 2026–27 کے بجٹ کی منظوری دیتے ہوئے اسے حتمی منظوری کے لیے سنڈیکیٹ کو بھیجنے کی سفارش بھی کی گئی۔منظور شدہ بجٹ کے مطابق مین کیمپس، شہید بینظیر آباد کے لیے 1,305.00 ملین روپے کا بجٹ اور 1,384.65 ملین روپے کی متوقع آمدنی، نوشہرو فیروز کیمپس کے لیے 161.85 ملین روپے کا بجٹ اور 159.87 ملین روپے کی متوقع آمدنی، جبکہ سانگھڑ کیمپس کے لیے 145.40 ملین روپے کا بجٹ اور 132.30 ملین روپے کی متوقع آمدنی منظور کی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ مین کیمپس کا بجٹ گزشتہ سال کے نظرثانی شدہ بجٹ کے مقابلے میں 11.5 فیصد زیادہ ہے، جس کا مقصد نئی بھرتیوں، حکومت سندھ کی جانب سے تنخواہوں اور الاؤنسز میں کیے گئے اضافے پر عملدرآمد اور ترقیاتی منصوبوں پر مزید سرمایہ کاری کرنا ہےفنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی نے حکومت سندھ کی پالیسی کے مطابق BPS-01 سے BPS-22 تک کے ملازمین کے لیے 7 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس کی منظوری بھی دی، جو یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ ریٹائرڈ ملازمین کی خالص پنشن میں بھی 7 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی۔

