سانگھڑ بیوروچیف کی رپورٹ
سانگھڑ میں چھ ماہ قبل قتل ہونے والے ڈاکٹر سلیم آرائیں کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف سندھ پنجابی اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن اور پنجابی اتحاد کے زیر اہتمام میرپور چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔احتجاج میں چوہدری غلام نبی آرائیں، شہباز گل، سردار بابر واہلہ، آصف جٹ، ڈاکٹر اشرف مانگہٹ سمیت دیگر رہنماؤں نے مقتول کے بھائی لیاقت آرائیں اور زبیر آرائیں کے ہمراہ شرکت کی۔ مقررین نے پولیس کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کو چھ ماہ گزر جانے کے باوجود ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ ان کا الزام تھا کہ کیس کو سی ٹی ڈی کے سپرد کر کے عملی طور پر اس پر پیش رفت روک دی گئی ہے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ سندھ میں پنجابی کمیونٹی کے افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقتول ڈاکٹر سلیم آرائیں کے قتل کیس کی شفاف اور تیز رفتار تحقیقات کر کے ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔مقررین نے کہا کہ وہ قانون کا احترام کرتے ہیں، تاہم اگر مقتول کے اہل خانہ کو انصاف فراہم نہ کیا گیا تو پورے سندھ میں احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔مظاہرین نے آرمی چیف، چیف جسٹس سپریم کورٹ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد اور ایس ایس پی سانگھڑ سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر سلیم آرائیں کے قتل میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔احتجاج میں چوہدری جنید ڈیرہ، چوہدری محسن، زاہد آرائیں، اشتیاق آرائیں، شہباز آرائیں، احد آرائیں، چوہدری نواز، سمیع اللہ آرائیں، فرحان، ممتاز ریاڑ چوہدری، آفتاب گل، فیصل دھاریوال، چوہدری منصور بندیشہ، فیصل محمود واہلہ، میر سعید آرائیں اور دیگر افراد بھی شریک تھے۔

