31 دسمبر 2027 تک مالیاتی نظام میں تبدیلی کے عمل کو مکمل کیا جائے گا اور یکم جنوری 2028 سے تمام نئے لین دین، جس میں قرض اور دیگر مالیاتی معاہدے شامل ہیں، شریعہ کے مطابق کیے جائیں گے۔
پاکستان کی شہباز حکومت نے ملک کے مالیاتی نظام کو آہستہ آہستہ سود سے پاک بنانے کی سمت میں بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اب ملک کا نظام شریعہ (اسلامی قانون کے مطابق) کے حساب سے چلے گا۔ حکومت نے طے کیا ہے کہ یکم جنوری 2028 سے قرض سمیت تمام نئے لین دین شریعہ کے مطابق کیے جائیں گے۔ فی الحال موجودہ انتظامات اپنی میعاد مکمل ہونے تک جاری رہیں گی۔
حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 31 دسمبر 2027 تک مالیاتی نظام میں تبدیلی کے عمل کو مکمل کیا جائے گا اور یکم جنوری 2028 سے تمام نئے لین دین جس میں قرض اور دیگر مالیاتی معاہدے شامل ہیں شریعہ کے مطابق کیے جائیں گے۔ زیادہ تر غیر ملکی ملکیت والے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو روایتی اور اسلامی دونوں طرح کے طریقوں پر مشتمل ایک ہائبرڈ نظام جاری رکھنے کی اجازت دی جائے گی۔ وزارت خزانہ نے اس تبدیلی کے لیے ایک ادارہ جاتی انتظام کے ذریعہ اسٹیک ہولڈرز، ریگولیٹرز، بینکوں، مالیاتی اداروں اور مذہبی اسکالرز کے ساتھ بات چیت کر کے پاکستان میں 2027 کے بعد کے مالیاتی نظام کے لیے حکمت عملی کو حتمی شکل دیا ہے۔
پاکستان میں سود سے پاک مالیاتی نظام نافذ کرنے کی پالیسی فیڈرل شریعت کورٹ کے 28 اپریل 2022 کے فیصلے کو مدنظر رکھ کر بنائی گئی ہے۔ اس فیصلے میں کہا گیا تھا کہ سود کے تمام تر طریقے ممنوع ہیں اور اسے 31 دسمبر 2027 تک پاکستان سے ختم کرنا ضروری ہے۔ اس کے بعد آئین میں 2024 میں کی گئی 26ویں ترمیم میں بھی یہ ڈیڈ لائن طے کی گئی اور یکم جنوری 2028 سے قبل سودی نظام کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔

