واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ فیڈرل ڈسکلوزر رپورٹ نے عالمی کاروباری اور سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے گزشتہ سال اپنے کرپٹو کرنسی کے کاروبار سے ایک ارب ڈالر سے زائد کی خطیر رقم کمائی ہے، جس نے ان کی مجموعی سالانہ آمدنی میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ، جنہوں نے 2025 کے آغاز میں امریکا کو "دنیا کا کرپٹو دارالحکومت” بنانے کا عزم ظاہر کیا تھا، اب اس شعبے سے بے پناہ منافع کما رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق:
ورلڈ لبرٹی فنانشل (World Liberty Financial): ٹرمپ کے اس فلیگ شپ کاروبار نے نئے کرپٹو پروڈکٹس اور "گورننس ٹوکنز” کی فروخت سے 500 ملین ڈالر سے زیادہ کمائے۔
سی آئی سی ڈیجیٹل (CIC Digital LLC): صدارت کے حلف سے چند دن قبل لانچ کیے گئے ٹرمپ کی تصویر والے "میم کوائنز” (Meme Coins) کی فروخت سے 600 ملین ڈالر سے زائد کی آمدنی ہوئی۔
یہ کمپنیاں، جو ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے وقت محض اسٹارٹ اپس تھیں، اب ان کے کئی دہائیوں پر محیط رئیل اسٹیٹ کے وسیع پورٹ فولیو سے زیادہ منافع کما رہی ہیں۔
متنازعہ کمائی اور وائٹ ہاؤس کا موقف
جہاں ناقدین اس پیش رفت کو مفادات کا ٹکراؤ قرار دے رہے ہیں، وہیں وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ: "صدر ٹرمپ نے انتظامی اقدامات اور ‘جینیس ایکٹ’ (GENIUS Act) جیسے قوانین کے ذریعے امریکہ کو کرپٹو کا مرکز بنایا ہے۔ صدر کا ہر اقدام امریکی عوام کے بہترین مفاد میں ہے۔”
کرپٹو کے علاوہ، صدر ٹرمپ نے دیگر ذرائع سے بھی کروڑوں ڈالر کمائے:
قانونی تصفیے: میڈیا اور سوشل میڈیا کمپنیوں (جیسے میٹا، ایکس، یوٹیوب، اے بی سی، سی بی ایس) کے ساتھ پانچ الگ الگ قانونی تصفیوں سے 86 ملین ڈالر سے زائد کی کمائی کی۔
برانڈڈ مصنوعات: بائبلز، جوتے اور گھڑیوں (4.7 ملین ڈالر) کی فروخت سے بھی بھاری منافع حاصل ہوا۔
غیر ملکی رئیل اسٹیٹ ڈیلز: متحدہ عرب امارات (10.4 ملین ڈالر)، سعودی عرب (9 ملین ڈالر)، اور رومانیہ و قطر سے 5، 5 ملین ڈالر کی آمدنی ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کی کرپٹو مصنوعات کی قدر میں فروخت کے آغاز کے بعد کمی بھی دیکھی گئی ہے، تاہم یہ کاروبار اب بھی ان کی آمدنی کا سب سے طاقتور ذریعہ بن چکا ہے۔

