لاہور (رپورٹ: اسد مرزا) لاہور ٹریفک پولیس نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے شہر کی اہم شاہراہوں پر ہیلمٹ سروے رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق لاہور کی ماڈل روڈز پر ہیلمٹ پہننے کی شرح 97.11 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
سیف سٹی کے جدید کیمروں کے ذریعے کیے گئے اس سروے میں ماڈل روڈز کے 17 اہم چوکوں پر 2 لاکھ 64 ہزار 112 موٹر سائیکلوں کا ڈیٹا ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق:
ہیلمٹ پہننے والے: 2 لاکھ 56 ہزار 473 موٹر سائیکل سوار۔
بغیر ہیلمٹ: صرف 7 ہزار 639 افراد۔
سرفہرست علاقہ: آئی جی چوک کینٹ 99.65 فیصد ہیلمٹ کمپلائنس کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا۔
ہیڈ ٹراما کے کیسز میں 40 فیصد کمی
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ہیلمٹ کے استعمال کو یقینی بنانے سے سر کی جان لیوا چوٹوں (ہیڈ ٹراما) کے کیسز میں 40 فیصد تک نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں موجود 82 لاکھ رجسٹرڈ گاڑیوں میں سے 61 لاکھ سے زائد موٹر سائیکلیں ہیں، اور چونکہ ٹریفک حادثات کے 73 فیصد متاثرین بائیکرز ہوتے ہیں، اس لیے ہیلمٹ کا استعمال زندگی بچانے کے لیے ناگزیر ہے۔
سخت کارروائی: ‘نو گو ایریا’ پالیسی کا اعلان
لاہور ٹریفک پولیس نے ہیلمٹ کے استعمال کو مزید یقینی بنانے کے لیے کریک ڈاؤن کا دائرہ کار بڑھا دیا ہے۔ مال روڈ، جیل روڈ، کینال روڈ، مین بلیوارڈ اور کینٹ کے تمام علاقوں کو پہلے ہی "نو گو ایریا” قرار دیا جا چکا ہے، جبکہ اب ان ماڈل روڈز سے ملحقہ شاہراہوں پر بھی بغیر ہیلمٹ سفر کرنے والوں کے خلاف ‘زیرو ٹالرنس’ پالیسی کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
سی ٹی او کا کہنا ہے کہ شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اب رعایت نہیں دی جائے گی۔

