لندن (ویب ڈیسک): برطانوی حکومت نے پناہ گزینوں سے متعلق ایک انتہائی سخت اور متنازعہ پالیسی کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت برطانیہ میں پناہ پانے والے افراد کو اپنی رہائش اور حکومتی معاونت کے اخراجات کی مد میں تقریباً 10 ہزار پاؤنڈز کی رقم حکومت کو واپس کرنا ہوگی۔
برطانوی پارلیمان میں منگل کو پیش کیے جانے والے نئے ‘امیگریشن اینڈ اسائلم بل’ کے تحت یہ قانون لاگو کیا جائے گا۔ اس نئی شرط کا اطلاق ان تمام پناہ گزینوں پر ہوگا جو مستقل سکونت (Permanent Residency) حاصل کرنے کے اہل بننا چاہتے ہیں اور جنہیں برطانیہ میں کام کرنے کا حق حاصل ہے۔
برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ "پناہ ایک حق تو ہے مگر اس کے ساتھ ذمہ داری بھی جڑی ہے۔ جب پناہ گزین معاشی طور پر مستحکم ہو جائیں، تو یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ برطانوی عوام کی فیاضی کا بدلہ چکائیں۔”
وزارتِ داخلہ کے مطابق، گزشتہ سال پناہ گزینوں کی معاونت پر ٹیکس دہندگان کے تقریباً 4 ارب پاؤنڈز خرچ ہوئے، جنہیں واپس حاصل کرنے کے لیے یہ نظام لایا جا رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس رقم کی وصولی اقساط کی صورت میں کی جائے گی، تاہم ماہانہ آمدن کی حد کا تعین ابھی باقی ہے۔
یہ خبر سامنے آتے ہی انسانی حقوق کے حلقوں اور رفاہی اداروں میں شدید ردعمل پایا جاتا ہے۔ رفیوجی کونسل نے اسے "پناہ گزینوں پر اضافی ٹیکس” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ ان لوگوں کو مزید کسمپرسی میں دھکیل دے گا جو پہلے ہی سب کچھ چھوڑ کر آئے ہیں۔
عمران حسین (ڈائریکٹر، رفیوجی کونسل) نے کہا کہ بہت سے افراد اس لیے معاونت لینے پر مجبور ہوتے ہیں کیونکہ حکومت خود ان کی درخواستوں کے دوران انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔
دوسری جانب آکسفورڈ یونیورسٹی کی مائیگریشن آبزرویٹری نے حکومتی حکمت عملی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نظام عملی طور پر کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پناہ ملنے کے پانچ سال بعد بھی صرف 13 فیصد افراد کی سالانہ آمدن 20 ہزار پاؤنڈز یا اس سے زیادہ ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کی کم آمدن کے باعث حکومت کے لیے اس رقم کی واپسی یقینی بنانا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنیوالوں کی موجیں ختم: اب ‘پناہ کے عوض’ 10 ہزار پاؤنڈز واپس کرنے ہوں گے!

