نیویارک : امریکا میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے والے چینی ارب پتی بزنس مین گو وینگوئی کو ایک بڑے مالیاتی اسکینڈل میں ملوث پائے جانے پر 30 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ ایک وفاقی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ گو وینگوئی نے ہزاروں لوگوں کو جمہوری چین کے نام پر دھوکہ دے کر ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی لوٹی۔
گو وینگوئی، جو ‘مائلز گو’ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، 2017 میں چین سے فرار ہو کر امریکا آئے تھے اور خود کو چینی کمیونسٹ پارٹی کا سخت ناقد اور جمہوریت کا محافظ قرار دیتے تھے۔ پراسیکیوٹرز کے مطابق، انہوں نے اپنی اسی شہرت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ ان کی سرمایہ کاری کو چین کے خلاف تحریک کے لیے استعمال کریں گے۔ تاہم، عدالت میں یہ ثابت ہوا کہ انہوں نے 1 ارب ڈالر سے زائد کی رقم دھوکے سے حاصل کی اور اس رقم کو عوامی تحریک کے بجائے اپنے پرتعیش طرزِ زندگی، مہنگی گاڑیوں، لگژری کشتیوں (یاٹس) اور ڈیزائنر ملبوسات پر خرچ کیا۔ نیویارک کی وفاقی عدالت کی جج اینالیسا ٹوریس نے سزا سناتے ہوئے کہا کہ گو وینگوئی نے ان لوگوں کو شکار بنایا جو چین میں جمہوریت لانے کے خواہشمند تھے۔ جج نے ان کے رویے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ:گو وینگوئی نے اپنے جرائم پر نہ تو کوئی شرمندگی ظاہر کی اور نہ ہی ذمہ داری قبول کی۔عدالت نے انہیں 889 ملین ڈالر کی رقم ہرجانے (Forfeiture) کے طور پر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ پراسیکیوٹرز نے عدالت کو بتایا کہ ان کے اس فراڈ نے سینکڑوں خاندانوں کو مالی، جذباتی اور نفسیاتی طور پر تباہ کر دیا ہے۔ وکلا کا موقف اور گو وینگوئی کا دفاعسزا کے اعلان سے قبل گو وینگوئی نے جیل میں اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر احتجاج کیا اور دعویٰ کیا کہ وہ سیاسی مقاصد کے لیے فنڈز استعمال کر رہے تھے۔ ان کے وکلا نے دلیل دی کہ وہ چینی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے سیاسی انتقام کا نشانہ بن رہے ہیں، تاہم عدالت نے ان دلائل کو مسترد کر دیا۔واضح رہے کہ گو وینگوئی کے قریبی ساتھی اور سابق چیف آف اسٹاف یویٹ وانگ کو بھی اس اسکینڈل میں ملوث ہونے پر گزشتہ سال 10 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ گو وینگوئی کی گرفتاری مارچ 2023 میں مین ہیٹن میں واقع ان کے پرتعیش اپارٹمنٹ سے عمل میں آئی تھی۔
1 ارب ڈالر کا فراڈ: چینی ٹائیکون گو وینگوئی کو امریکا میں 30 سال قید

