نیدرلینڈ کی حکومت نے 2024 میں قانون میں ترمیم کی تھی۔ اس کے بعد 1 سے 12 سال تک کے بچوں کو بعض مخصوص حالات میں رضامندانہ موت کی اجازت مل گئی۔
نیدرلینڈ میں پہلی بار 12 سال سے کم عمر ایک بچے کو قانونی رضامندانہ موت (یوتھنیسیا) یعنی ’خواہش کی موت‘ دی گئی ہے۔ یہ پہلا معاملہ ہے جو 2024 میں قانون میں تبدیلی کے بعد سامنے آیا ہے۔ نئے ضوابط کے تحت 1 سے 12 سال کی عمر کے ان بچوں کو رضامندانہ موت دی جا سکتی ہے جو لاعلاج بیماری میں مبتلا ہوں، ناقابل برداشت تکلیف کا سامنا کر رہے ہوں اور جن کے صحت یاب ہونے کی کوئی امید نہ ہو۔
نیدرلینڈ کی وزیر صحت سوفی ہارمنس نے بتایا کہ یہ بچہ گزشتہ سال ’خواہش کی موت‘ کے ذریعہ دنیا سے رخصت ہوا۔ تاہم انہوں نے بچے کی اصل عمر، شناخت یا بیماری کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔ انہوں نے یہ اطلاع پارلیمنٹ میں حکومت کی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے دی۔ وزیر صحت نے یہ بھی کہا کہ اب اس معاملے کی جانچ سرکاری وکلا کریں گے۔ وہ یہ دیکھیں گے کہ رضامندانہ موت دینے والے ڈاکٹر نے قانون میں مقرر تمام ضوابط پر صحیح طریقے سے عمل کیا یا نہیں۔

