یورپ میں شدید گرمی کی لہر برقرار ہے۔ جرمنی میں درجۂ حرارت 41.3 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا، فرانس میں شدید گرمی کے باعث اہم تقریبات ملتوی کر دی گئیں جبکہ برطانیہ میں بھی جون کا نیا ریکارڈ قائم ہوا
یورپ کے مختلف ممالک میں شدید گرمی کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور کئی علاقوں میں درجۂ حرارت نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔ جرمنی، فرانس اور برطانیہ سمیت متعدد ممالک گرمی کی غیر معمولی لہر کی زد میں ہیں، جبکہ ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند روز میں صورت حال مزید سنگین ہو سکتی ہے اور گرمی کی شدت وسطی اور مشرقی یورپ تک پھیلنے کا امکان ہے۔
جرمنی میں جمعہ کے روز اب تک کا سب سے زیادہ درجۂ حرارت ریکارڈ کیا گیا، جہاں شہر زاربروکن میں پارہ 41.3 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔ ابتدائی موسمی اعداد و شمار کے مطابق یہ ملک کی تاریخ کا بلند ترین درجۂ حرارت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہفتے کے آخر تک گرمی میں مزید اضافہ متوقع ہے اور اس کے اثرات پولینڈ اور بلقان کے علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
فرانس اس وقت یورپ میں شدید گرمی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ ملک کے کئی علاقوں میں درجۂ حرارت چالیس ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ شدید گرمی کے باعث متعدد ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ بعض افراد کی موت گرمی سے متعلق طبی پیچیدگیوں اور بعض کی ڈوبنے کے واقعات میں ہوئی ہے۔

