ہماچل پردیش میں خواتین اب نشے کے معاملے میں مردوں کو پیچھے چھوڑتی نظر آتی ہیں۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے-6 (NFHS-6) کی حالیہ رپورٹ میں یہ چونکا دینے والا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 15 سال سے زائد عمر کی خواتین میں تمباکو نوشی کی شرح 1.9 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ تعداد دیہی علاقوں میں 2 فیصد تک پہنچ گئی ہے جب کہ شہری علاقوں میں یہ 1 فیصد ہے۔
دوسری جانب مردوں میں تمباکو کا استعمال 32.2 فیصد سے کم ہو کر 28.9 فیصد رہ گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خواتین میں نشہ بڑھ رہا ہے اور مردوں میں کم ہو رہا ہے۔ شراب کے معاملے میں بھی خواتین کے استعمال میں کوئی خاص کمی نہیں آئی ہے جبکہ مردوں میں شراب نوشی کے رجحان میں کمی آئی ہے۔ یہ اعداد و شمار پورے ملک کے لیے تشویش کا باعث بن گئے ہیں، کیونکہ ہماچل پردیش کو کبھی پُرامن اور صحت مند ریاست سمجھا جاتا تھا۔
ہماچل پردیش میں خواتین اب نشے کے معاملے میں مردوں کو پیچھے چھوڑتی نظر آتی ہیں۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے-6 (NFHS-6) کی حالیہ رپورٹ میں یہ چونکا دینے والا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 15 سال سے زائد عمر کی خواتین میں تمباکو نوشی کی شرح 1.9 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ تعداد دیہی علاقوں میں 2 فیصد تک پہنچ گئی ہے جب کہ شہری علاقوں میں یہ 1 فیصد ہے۔
دوسری جانب مردوں میں تمباکو کا استعمال 32.2 فیصد سے کم ہو کر 28.9 فیصد رہ گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خواتین میں نشہ بڑھ رہا ہے اور مردوں میں کم ہو رہا ہے۔ شراب کے معاملے میں بھی خواتین کے استعمال میں کوئی خاص کمی نہیں آئی ہے جبکہ مردوں میں شراب نوشی کے رجحان میں کمی آئی ہے۔ یہ اعداد و شمار پورے ملک کے لیے تشویش کا باعث بن گئے ہیں، کیونکہ ہماچل پردیش کو کبھی پُرامن اور صحت مند ریاست سمجھا جاتا تھا۔

