واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے ساتھ "تاریخی معاہدے” کی کوششیں ایک ایسی طویل کہانی بن چکی ہیں جس کا اختتام کہیں نظر نہیں آتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اپریل میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک صدر ٹرمپ کم از کم 37 بار یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ معاہدہ بس ہونے ہی والا ہے، ایران ڈیل کے لیے "ترس رہا ہے” اور "سب کچھ دینے کو تیار ہے”، مگر حقیقت کی زمین پر اب بھی سناٹا ہے۔
وعدے، وعدے اور صرف وعدے!
سی این این کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ سلسلہ 23 مارچ سے شروع ہوا، جب انہوں نے وائٹ ہاؤس سے باہر صحافیوں کو بتایا کہ "تقریباً تمام نکات پر اتفاق ہو چکا ہے”۔ تب سے لے کر اب تک:
مارچ کے آخر میں: ایران "معاہدے کے لیے بھیک مانگ رہا تھا”۔
اپریل کے وسط میں: ٹرمپ نے اعلان کیا کہ "سب کچھ طے پا گیا ہے” اور بس ایک دو دن کی بات ہے۔
مئی میں: انہوں نے دعویٰ کیا کہ "معاہدہ حتمی مراحل میں ہے” اور "بہت جلد” اعلان کر دیا جائے گا۔
یہاں تک کہ 18 مئی کو جب ٹرمپ نے کہا کہ وہ عسکری کارروائی صرف اس لیے روک رہے ہیں کیونکہ "ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں”، تو ایسا محسوس ہوا کہ شاید اب کچھ ہونے والا ہے۔ لیکن ہر بار کی طرح، یہ "تھوڑا مختلف” دعویٰ بھی حقیقت کا روپ نہ دھار سکا۔
صدر ٹرمپ کا اصرار ہے کہ ایران ڈیل کے لیے بے تاب ہے، جبکہ دوسری جانب ایران نے بارہا ایسی کسی بھی بات چیت کی تردید کی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے "دو ہفتوں میں مکمل فتح” اور "ایران کا سب کچھ دینے کے لیے تیار ہونا” جیسے بیانات اب سیاسی حلقوں میں ایک مذاق بنتے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ یا تو خود کسی خوش فہمی میں مبتلا ہیں، یا پھر مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو قابو کرنے کے لیے ان "خیالی ڈیلز” کا سہارا لے رہے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اتنی بار ناکام پیشگوئیوں کے باوجود، ٹرمپ نے ہمت نہیں ہاری اور اب بھی اسے "حتمی ڈیل” قرار دے رہے ہیں۔
نتیجہ: سب وعدے، ہوا میں!
گزشتہ 24 گھنٹوں میں بھی ٹرمپ نے پھر وہی پرانا راگ الاپا ہے کہ "ہم مذاکرات کر رہے ہیں اور وہ بہت اچھی ڈیل چاہتے ہیں”۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اپریل کے وعدوں کو دو ماہ سے زیادہ گزر چکے ہیں، لیکن نہ تو "ڈیل” ہوئی ہے اور نہ ہی "مکمل فتح” نصیب ہوئی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ واقعی اس "ٹریلیرن ڈیل” کے قریب ہیں، یا یہ صرف ایک اور انتخابی بیان بازی ہے؟ فی الحال، ایسا لگتا ہے کہ ایرانی ڈیل صدر ٹرمپ کی وہ "کامیابی” ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید دور ہوتی جا رہی ہے۔

