واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے اور ایک طویل المدتی معاہدے کے حوالے سے دھماکہ خیز اعلان کر دیا ہے۔ منگل کے روز ایک ٹیلی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے عزم ظاہر کیا کہ امریکا اگلے دو ہفتوں کے اندر ایران کے خلاف "مکمل فتح” (Total Victory) کا اعلان کرے گا، جس کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
’سب کچھ مل جائے گا‘: ٹرمپ اور جے ڈی وینس کا موقف
صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ ایران کے مذاکرات کار اب امریکا کو "سب کچھ” دینے کے لیے تیار ہیں، اور یہ معاہدہ بہت جلد طے پانے والا ہے۔ دوسری جانب، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اس مؤقف کو مزید تقویت دیتے ہوئے واضح کیا کہ امریکا کا مفاد سب سے مقدم ہے، چاہے اس کے لیے اسرائیل کی خواہشات کے برعکس ہی کیوں نہ جانا پڑے۔
جے ڈی وینس نے دو ٹوک الفاظ میں کہا: "اسرائیل اس معاہدے سے خوش ہو یا نہ ہو، ہمارا مقصد امریکی عوام کے مفادات کا تحفظ ہے۔ ہم اس عمل کو جاری رکھیں گے کیونکہ اسی مقصد کے لیے صدر کو منتخب کیا گیا ہے۔”
امن معاہدہ صرف ’دو سے تین دن‘ کی دوری پر؟
ادھر وائٹ ہاؤس کے ذرائع اور صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں امن معاہدہ اپنے آخری مراحل میں ہے۔ این بی اے فائنلز کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے پیشگوئی کی کہ یہ معاہدہ محض "دو سے تین دنوں” کے اندر طے پا سکتا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ چند دنوں میں شدید فوجی کشیدگی دیکھی گئی۔ ایران نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کے ردعمل میں اسرائیل پر میزائل برسائے، جس کے جواب میں اسرائیل نے بھی جوابی حملے کیے۔ تاہم، تہران کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان اور امریکی صدر کی مسلسل سفارتی مداخلت کے بعد اب حالات میں بہتری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔
ایران نے خبردار کیا تھا کہ لبنان پر اسرائیلی جارحیت جاری رہی تو وہ خاموش نہیں بیٹھے گا، لیکن اب ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وہ تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے اور خطے میں جنگ کے بادل چھانٹنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
واشنگٹن کا یہ "یکطرفہ” اور سخت گیر سفارتی انداز مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جہاں ایک طرف اسرائیل کی ناراضگی کا خدشہ ہے تو دوسری طرف ایران کے ساتھ ایک بڑے معاہدے کی امید۔ اب دنیا کی نظریں ان دو سے تین دنوں پر مرکوز ہیں جو خطے کا مستقبل طے کریں گے۔
ٹرمپ کا ’فتح‘ کا دعویٰ: امریکا ایران کے ساتھ ’تاریخی معاہدے‘ کے بالکل قریب، نیتن یاہو کی مخالفت کے باوجود پیش قدمی48 گھنٹے اہم

