گلگت بلتستان میں 10 اضلاع کی 24 نشستوں پر جنرل الیکشن آج ہو رہے ہیں۔ امیدواروں کی تعداد 396 ہے جس میں آٹھ خواتین بھی بطور امیدوار میدان میں ہیں۔ انتخابات کو پر امن بنانے کے لیے سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔
گلگت بلتستان پولیس کے سربراہ آئی جی اکبر ناصر خان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انتخابات میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 17 ہزار اہلکار تعینات ہیں، جن میں پنجاب اور سندھ پولیس کے علاوہ رینجرز اور ایف سی کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
وفاق میں برسراقتدار پاکستان مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنماؤں نے اپنی اپنی جماعت کے امیدواروں کے لیے یہاں انتخابی مہمات چلائی ہیں۔ نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری نے بھی انتخابی جلسوں سے خطاب کیے۔
جبکہ اپوزیشن کی بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو ان انتخابات میں بطور پارٹی حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ تحریک انصاف کا الزام ہے کہ اس کے چیئرمین سلمان اکرم راجہ سمیت متعدد سینیئر رہنماؤں کو امیدواروں کی حق میں مہم چلانے کے لیے گلگت بلتستان داخل ہونے کی اجازت تک نہیں دی گئی، اور جو رہنما وہاں پہنچنے میں کامیاب رہے انھیں بعد ازاں علاقہ بدر کر دیا گیا۔
گلگت بلتستان انتخابات،سخت سیکیورٹی کے دوران پولنگ کا آغاز، ووٹروں کی لمبی قطاریں

