اسلام آباد:حکومتِ پاکستان نے بیوروکریسی میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے سرکاری افسران پر اپنی اور اپنے اہل خانہ کی غیر ملکی شہریت، پاسپورٹ اور اثاثوں کے گوشوارے جمع کرانا لازمی قرار دے دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری سے جاری کردہ ‘سول سرونٹس (غیر ملکی شہریت کے انکشاف اور ضابطہ) رولز 2026’ کے تحت تمام سرکاری ملازمین اب تقرری کے وقت سے ہی اپنی غیر ملکی وابستگیوں کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ ان نئے قوانین کا مقصد سرکاری مشینری میں مفادات کے ٹکراؤ کو ختم کرنا اور عوامی عہدوں پر فائز افراد کی وفاداریوں کو مشکوک ہونے سے بچانا ہے۔
موجودہ سرکاری افسران کو اپنی یا اپنے زیر کفالت اہل خانہ کی غیر ملکی شہریت یا سفری دستاویزات کا انکشاف کرنے کے لیے 90 دن کا وقت دیا گیا ہے۔ حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق:
افسران کو غیر ملکی شہریت، پاسپورٹ، مستقل رہائش (PR) اور امیگریشن اسٹیٹس کی تفصیلات فراہم کرنی ہوں گی۔
ایسٹ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ایک مرکزی ڈیٹا بیس قائم کرے گی جہاں یہ تمام معلومات محفوظ ہوں گی۔
افسران کو کسی بھی نئی غیر ملکی دستاویز حاصل کرنے کے لیے متعلقہ مجاز اتھارٹی سے پیشگی منظوری لینا ہوگی۔
حکومت نے ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سخت سزاؤں کا اعلان کیا ہے۔ معلومات چھپانے یا غلط بیانی کرنے والے افسر کو ‘مس کنڈکٹ’ کا مرتکب قرار دیا جائے گا۔ ایسے کیسز میں افسر کی تقرری کو کالعدم قرار دے کر کسی بھی مرحلے پر ملازمت سے برطرف کیا جا سکتا ہے۔
62 سالہ پرانے ضابطہ اخلاق کو تبدیل کر کے یہ نیا فریم ورک پاکستان کی سول سروس میں ایک نئی روح پھونکنے کی کوشش ہے۔ اس سے قبل سرکاری افسران پر سوشل میڈیا کے استعمال اور غیر اعلانیہ اثاثوں سے متعلق بھی سخت ضوابط لاگو کیے جا چکے ہیں۔
دہری شہریت کا نہ بتانے والے سرکاری افسران نوکریوں سے فارغ، حکومت نے سخت ضوابط متعارف کرادئیے

