واشنگٹن+تہران :امریکانے کہا ہے کہ اس نے گذشتہ ہفتے کے اختتام پر ایران کے فوجی ٹھکانوں پر حملے کیے جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے پیر کو بتایا کہ اُس نے جواباً ایک امریکی فوجی اڈے پر حملہ کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق یہ کارروائیاں تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی تازہ مثال ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام)نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کیے گئے ایک بیان میں بتایا کہ خلیج کے ساحلی علاقے میں یہ حملے ’ایران کی جارحانہ کارروائیوں‘کے جواب میں کیے گئے۔
— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 1, 2026
اسی بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ایران نے بین الاقوامی فضائی حدود میں پرواز کرنے والے امریکاکے ایک ایم کیو-ون ڈرون کو بھی مار گرایا تھا۔‘امریکی سینٹرل کمانڈ ے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے اندر واقع ریڈار اور ڈرون کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز پر ’دفاعی کارروائی‘ کے تحت حملے کیے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائیاں سنیچر اور اتوار کے روز ایران کے شہر گوروک اور جزیرہ قشم پر کی گئیں۔
’امریکی جنگی طیاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایرانی فضائی دفاعی نظام، ایک زمینی کنٹرول سٹیشن اور دو خودکش ڈرونز تباہ کر دیے، جو علاقائی سمندری راستوں سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے واضح خطرہ تھے۔‘
اس حوالے سے سینٹ کام کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی کے دوران امریکااپنے اثاثوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔‘
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ ’ہم نے اُس ایئربیس کو نشانہ بنایا جو امریکہ، جنوبی ایران پر حملے کے لیے استعمال کر رہا تھا‘، تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ فضائی اڈہ کس ملک میں واقع ہے۔

