نئی دہلی :سوشل میڈیا کی دنیا میں ایک ایسا طنزیہ سیاسی طوفان برپا ہے جس نے روایتی سیاستدانوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایک سادہ سے میم (Meme) سے شروع ہونے والی تحریک اب ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (CJP) کے نام سے ایک ایسی ڈیجیٹل سنسنی بن چکی ہے، جس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد ایک کروڑ 24 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
آغاز کیسے ہوا؟
اس دلچسپ تحریک کا پس منظر بھارتی سپریم کورٹ کے جسٹس سوریہ کانت کا ایک مبینہ تبصرہ ہے، جس میں انہوں نے بے روزگار نوجوانوں کو ‘کاکروچ’ سے تشبیہ دی تھی۔ اس بیان کے ردعمل میں، بوسٹن یونیورسٹی کے سابق طالب علم اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ابھیجیت ڈپکے نے 16 مئی کو مذاقاً اس پارٹی کی بنیاد رکھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ مذاق ایک ملک گیر ڈیجیٹل تحریک میں تبدیل ہو گیا۔
پارٹی کا فلسفہ اور رکنیت
‘کاکروچ جنتا پارٹی’ نے روایتی سیاست کے تمام ضابطوں کو مسترد کر دیا ہے۔ پارٹی کا ہیڈکوارٹر "جہاں بھی وائی فائی دستیاب ہو” کو قرار دیا گیا ہے، جبکہ اس کا انتخابی نشان ‘کاکروچ’ ہے، جو مشکل حالات میں بھی بقا کی جنگ لڑنے کی علامت ہے۔
پارٹی کی رکنیت کا معیار انتہائی منفرد ہے: اگر آپ بے روزگار ہیں، انٹرنیٹ پر زیادہ وقت گزارتے ہیں، اور معاشرتی ناانصافیوں پر مایوس ہیں، تو آپ اس کا حصہ بن سکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں رجسٹریشن کے لیے کوئی فیس نہیں اور نہ ہی کسی سیاسی لیڈر کے آگے پیچھے پھرنے کی ضرورت ہے۔
سی جے پی کا پانچ نکاتی منشور
اس طنزیہ تحریک نے معاشرے کے سنجیدہ مسائل کو اپنے منشور میں اس طرح بیان کیا ہے کہ ہر طرف چرچے ہیں:
عدالتی اصلاحات: ریٹائرمنٹ کے بعد چیف جسٹس کو انعام کے طور پر راجیہ سبھا کی نشست نہ دی جائے۔
انتخابی شفافیت: اگر کسی شہری کا ووٹ غلطی سے انتخابی فہرست سے خارج ہو، تو چیف الیکشن کمشنر پر دہشت گردی (UAPA) کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔
خواتین کو مساوی حقوق: پارلیمنٹ اور کابینہ میں خواتین کے لیے 50 فیصد کوٹہ مختص کیا جائے۔
آزاد میڈیا: بڑے کاروباری گروپس (امبانی/اڈانی) کی ملکیت والے میڈیا ہاؤسز کے لائسنس منسوخ کیے جائیں اور ‘گودی میڈیا’ کے اثاثوں کی جانچ ہو۔
لوٹا کریسی کا خاتمہ: پارٹی بدلنے والے ارکان اسمبلی یا پارلیمنٹ پر 20 سال کے لیے الیکشن لڑنے پر پابندی لگائی جائے۔
یہ حقیقت ہے یا صرف ایک لطیفہ؟
واضح رہے کہ ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کوئی باضابطہ رجسٹرڈ سیاسی جماعت نہیں ہے اور نہ ہی یہ الیکشن لڑنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ یہ ایک "میم-موومنٹ” ہے جس کا مقصد طنز کے ذریعے نظام کی خرابیوں کو اجاگر کرنا ہے۔ اگرچہ یہ ایک ڈیجیٹل مذاق ہے، لیکن ٹی ایم سی کی مہوا موئترا جیسی اہم سیاسی شخصیات کی جانب سے اس کی حمایت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ نوجوانوں میں موجود مایوسی کس قدر گہری ہے اور وہ کس طرح اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے نئے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں۔
پارٹی کا بنیادی مقصد حکمرانوں سے صرف ایک سوال پوچھنا ہے: "عوام کا ٹیکس کا پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے؟”
کیا آپ کو لگتا ہے کہ سوشل میڈیا پر اس طرح کے طنزیہ اقدامات روایتی سیاست پر اثر انداز ہو سکتے ہیں؟
ا

