سیالکوٹ (سلیم احمد اعوان شیخو) قانون کی طاقت یا وردی کی بدمعاشی کا نتیجہ یہ ہے کہ عبرت کا نشان بنتا ڈی ایس پی ٹریفک گوجرانولہ ذیشان ملک وکیل کی تذلیل کرنے والا اب خود سفارشیں ڈھونڈتا پھر رہا ہے۔گوجرانولہ کے ڈی ایس پی ٹریفک ذیشان ملک نے قانون کے محافظ ہونے کے باوجود ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن گوجرانولہ بار کے ممبر کو اس کے اہل خانہ کے سامنے تذلیل کا نشانہ بنایا اور خود کو سوشل میڈیا پر وائرل کروانے کے شوق میں اخلاقی و قانونی حدود پار کیں۔اب ڈی ایس پی خود قانون کے شکنجے میں آ چکا ہے۔اس بدتمیزی اور بدمعاشی کے خلاف نہ صرف محکمانہ انکوائری شروع ہو چکی ہے بلکہ مذکورہ بار کے سیکرٹری حق نواز ہنجرا کی جانب سے دائر کردہ استغاثہ پر باضابطہ قانونی کارروائی کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ حالات اب اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ڈی ایس پی کو اپنی ملازمت سے بھی ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔اس سے یہ محسوس ہوتا ہے بار ممبران یعنی وکلا طاقتور ہیں جب قانون کا سہارا لیا جائے تو بڑے بڑے برج الٹ جاتے ہیں۔ جو ڈی ایس پی کل تک اپنے آپ کو قانون سے بالا تر سمجھ رہا تھا آج وہی دی ایس پی معافیوں اور سفارشوں کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔پولیس کو کبھی کسی بات ممبر اور شہریوں کے ساتھ بدتمیزی یا بدمعاشی کرنے سے پہلے یہ جان لیں کہ جب بدتمیزی یا بدمعاشی کرنے والا پولیس ملازم قانون کی گرفت میں آتا ہے تو اسے وردی بچانا مشکل ہو جاتا ہے۔
عبرت کا نشان بنتا ڈی ایس پی ٹریفک گوجرانولہ خود سفارشیں ڈھونڈنے لگا

