رپورٹ:عاشر علی،اسلام آباد

اسلام آباد: ملک میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز اور سرحد پار سے ہونے والے حملوں کے تناظر میں ایک بڑی سیاسی و دفاعی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کی صوبائی انتظامیہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اب مکمل طور پر ایک پیج پر ہیں۔ سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ایک طویل عرصے تک ہمیں صوبائی حکومت کا اس معاملے میں تعاون حاصل نہیں تھا، تاہم اب صوبہ خیبر پختونخوا کے حکام، وفاق اور مسلح افواج دہشت گرد تنظیموں کے خلاف یک زبان اور متحد ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیکیورٹی فورسز اور مقامی پولیس کی قربانیاں پورے ملک کا اثاثہ ہیں، اور اس جنگ کو کسی ایک خطے یا صوبے تک محدود نہیں دیکھا جا سکتا۔
وزیر دفاع نے قومی یکجہتی پر زور دینے کے ساتھ ساتھ کابل انتظامیہ کو بھی سخت ترین الفاظ میں وارننگ جاری کی۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ قطر، ترکیہ اور سعودی عرب جیسے علاقائی دوست ممالک کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کے باوجود افغان حکام نے ابھی تک یہ تحریری ضمانت دینے سے انکار کر رکھا ہے کہ افغان سر زمین پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ خواجہ آصف نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کابل اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے ارکانِ پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ اس حساس معاملے پر لسانی یا علاقائی تفریق پیدا کرنے سے گریز کریں، کیونکہ اسلام آباد اور پشاور کے درمیان قائم ہونے والا یہ سیاسی اتفاق رائے ہی ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کو پائیدار اور کامیاب بنا سکتا ہے۔
