امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کے روز بیجنگ پہنچ گئے جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایک نہایت اہم سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے، جس کا مقصد دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان موجود تناؤ کو کم کرنا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قریباً ایک دہائی بعد کسی بھی امریکی صدر کا چین کا پہلا دورہ ہے جس کا آغاز کرتے ہوئے صدر ٹرمپ واشنگٹن سے طویل پرواز کے بعد بدھ کی رات 7 بج کر 50 منٹ پر بیجنگ کیپیٹل انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایئر فورس ون سے اُترے۔چین کے نائب صدر ہان ژنگ ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔
ہان ژنگ کا شمار چین کے اعلیٰ ترین رہنماؤں میں ہوتا ہے اور ٹرمپ کے استقبال کے لیے انھیں بھیجنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ چین کی اعلیٰ قیادت امریکی صدر کا احترام کرتی ہے۔
دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے رہنماؤں کے درمیان اس انتہائی اہم ملاقات پر ایران، تجارت اور تائیوان سے متعلق تنازعات کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ یہ ملاقات مارچ میں موخر کی گئی تھی کیونکہ اُس وقت مشرقِ وسطیٰ میں جنگ جاری تھی۔
تاہم صدر ٹرمپ کی زیادہ توجہ کاروباری معاہدوں پر دکھائی دی۔ این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ آخری وقت میں الاسکا سے طیارے پر سوار ہوئے جبکہ ٹیسلا کے ایلون مسک بھی صدارتی طیارے میں سفر کر رہے تھے۔
عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی دوڑ کے تیز ہونے کے ساتھ ہی چین اس وقت جدید ترین چِپس خریدنے سے محروم ہے جو ہوانگ نامی کمپنی امریکی برآمدی قوانین کے تحت تیار کرتی ہے اور ان کی برآمد پر پابندی عائد ہے کیونکہ امریکہ اس معاملے کو قومی سلامتی سے منسلک کرتا ہے۔

