جھڈو (رپورٹ / قیصر راجہ راجپوت)
جہڈو کے مین گرلز پرائمری اسکول میں مبینہ طور پر آلودہ اور زہریلا پانی پینے سے دو معصوم طالبات کے جاں بحق ہونے اور متعدد طالبات کے بیمار ہونے کے واقعے پر شہر میں تشویش کی فضا برقرار ہے، جبکہ ٹان چیئرمین اور اسسٹنٹ کمشنر جھڈو کے اسکول دورے کے دوران دیے گئے بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ شہریوں اور متاثرہ خاندانوں نے معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق جھڈو کے مین گرلز پرائمری اسکول میں سات روز قبل مبینہ طور پر اسکول کی پانی کی ٹینکی سے آلودہ پانی پینے کے باعث طالبات حفصہ تالپور اور نرگس سیال جاں بحق ہوگئیں، جبکہ پہلی جماعت کی طالبات شازیہ اور اس کی کزن ایمن لنڈ، اسی طرح پانچویں جماعت کی طالبات سندھیا اور سہانی میگھواڑ سمیت دیگر کئی طالبات گیسٹرو اور پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہوگئیں۔واقعے کے بعد والدین میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔ آج اسسٹنٹ کمشنر جھڈو فیصل گجر اور ٹان چیئرمین میر کامران تالپور نے اسکول کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پانی، صفائی اور انتظامات کا جائزہ لیا۔اسکول کے دورے کے دوران اسکول انتظامیہ کی جانب سے افسران اور مہمانوں کو منرل واٹر کی بوتلیں فراہم کی گئیں، جن کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔ سوشل میڈیا صارفین اور شہریوں نے اس عمل پر سخت تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر اسکول کا پانی واقعی صاف اور محفوظ ہے تو پھر تحقیقات کے لیے آنے والے افسران کو وہی پانی پلانے کے بجائے منرل واٹر کیوں دیا گیا؟شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ہی اسکول انتظامیہ کو کلین چٹ دے رہی ہے، جس سے تحقیقات کی شفافیت پر سوالات جنم لے رہے ہیں۔ متعدد صارفین نے مطالبہ کیا کہ پانی کے نمونے لیبارٹری بھیج کر فرانزک ٹیسٹ کرایا جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں۔دوسری جانب جاں بحق طالبات کے ورثا اور شہریوں نے اعلی سطحی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسکول انتظامیہ یا متعلقہ ادارے غفلت کے مرتکب پائے جائیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔


