قاہرہ: عرب دنیا کے مقبول ترین گلوکار اور ‘پرنس آف عرب سونگ’ کے لقب سے پہچانے جانے والے مایہ ناز فنکار ہانی شاکر طویل علالت کے بعد 73 برس کی عمر میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کی وفات کی خبر نے مصر سمیت پوری عرب دنیا میں سوگ کی لہر دوڑا دی ہے۔
مصر میں موسیقار سنڈیکیٹ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی رکن، آرٹسٹ نادیہ مصطفیٰ نے میڈیا کو بتایا کہ ہانی شاکر کی طبیعت اچانک انتہائی تشویشناک حد تک بگڑ گئی تھی، جو بالآخر ان کی موت کا سبب بنی۔ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف طبی مسائل کا بہادری سے مقابلہ کر رہے تھے۔
آنجہانی فنکار نے حال ہی میں اپنی بڑی آنت (Colon) کے ایک حصے کو نکالنے کے لیے ایک پیچیدہ آپریشن کروایا تھا۔
آپریشن کے بعد انہیں اچانک اندرونی خون بہنے (Internal Bleeding) کی شکایت ہوئی، جس کے بعد انہیں فوری طور پر انتہائی نگہداشت کے یونٹ (ICU) منتقل کر دیا گیا۔
ماہر ڈاکٹروں کی ایک خصوصی ٹیم نے ہنگامی بنیادوں پر دوبارہ سرجری کی تاکہ خون کے بہاؤ کو روکا جا سکے، تاہم طبی پیچیدگیوں کی وجہ سے ان کے جسم کے اہم اعضاء نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔
ہانی شاکر محض ایک گلوکار نہیں بلکہ عرب ثقافت کی ایک پہچان تھے۔ انہوں نے کئی دہائیوں تک اپنی سحر انگیز آواز سے کروڑوں دلوں پر راج کیا۔ ان کے انتقال پر دنیائے موسیقی کے بڑے بڑے ناموں نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا ہے۔
ہانی شاکر اپنے پیچھے نہ صرف سوگوار خاندان بلکہ موسیقی کا ایک ایسا عظیم ذخیرہ چھوڑ گئے ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔
موسیقی کی دنیا کا درخشندہ ستارہ غروب: ‘عرب گانوں کے شہزادے’ ہانی شاکر 73 برس کی عمر میں انتقال کر گئے؛

