سیالکوٹ:(رپورٹ سلیم احمد اعوان شیخو )

ذرائع کے مطابق سول جج منزہ شبیر عباسی کی عدالت، جو پہلے سول کورٹس کی عمارت کی دوسری منزل (سیکنڈ فلور) پر واقع تھی، اب پہلی منزل (فرسٹ فلور) پر منتقل کر دی گئی ہے۔ تاہم، اس منتقلی کے حوالے سے پرانی عدالت کے باہر کوئی معلوماتی چارٹ یا سادہ نوٹس برائے اطلاع تک آویزاں نہیں کیا گیا، جس سے سائلین کو نئی جگہ کا علم ہو سکے۔
دوسری منزل پر موجود پرانی عدالت اس وقت مکمل طور پر خالی پڑی ہے اور وہاں تاحال کسی دوسرے سول جج کی تعیناتی بھی عمل میں نہیں لائی گئی۔ منتقلی کے عمل کے دوران عدالتی عملے نے اتنی زحمت بھی گوارا نہیں کی کہ ایک نوٹس لگا کر سائلین کی رہنمائی کی جا سکے کہ عدالت اب نیچے منتقل ہو چکی ہے۔
اپنے کیسز کے سلسلے میں میلوں کا سفر طے کر کے آنے والے سائلین کا کہنا ہے کہ وہ انصاف کی امید لے کر عدالت پہنچتے ہیں، لیکن یہاں آ کر انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ عدالت کہاں چلی گئی ہے۔
سائلین کا مؤقف تھا کہ "ہم غریب لوگ کرایہ خرچ کر کے دور دراز علاقوں سے آتے ہیں، یہاں آ کر معلوم ہوتا ہے کہ عدالت غائب ہے، کوئی گائیڈ کرنے والا بھی موجود نہیں۔”
عدالتی عملے کی اس معمولی سی سستی نے سائلین کو سیکنڈ فلور اور فرسٹ فلور کے درمیان چکر لگانے پر مجبور کر دیا ہے۔
مقامی حلقوں اور سائلین نے اعلیٰ عدالتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ عدالتوں کی منتقلی کے دوران متعلقہ اسٹاف کو عوامی رہنمائی کے لیے واضح اشتہار یا نوٹس آویزاں کرنے کا پابند بنایا جائے تاکہ انصاف کے حصول کے لیے آنے والے سائلین کو ذلت و خواری سے بچایا جا سکے۔

