واشنگٹن ڈی سی:ایران کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ’بہت اچھا جا رہا رہے۔ ہم نے مخصوص حریف(ایران) جنگی طور پرشکست دیدی ہے۔
برطانوی بادشاہ چارلس اور ملکہ کمیلا پارکر کے اعزاز میں دیے گئے سرکاری عشائیے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم نے اس مخصوص حریف کو عسکری طور پر شکست دے دی ہے۔‘
وائٹ ہاؤس میں منعقدہ اس تقریب سے خطاب میں امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ’ہم اس حریف (ایران) کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے۔‘ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’چارلس بھی مجھ سے اتفاق کرتے ہیں۔‘
امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا اور برطانیہ ہمیشہ ’کمیونزم، فاشزم اور جبر کی قوتوں کے خلاف‘ ڈٹ کر کھڑے رہے اور سرخرو ہوئے۔جس پر بکنگھم پیلیس کے ترجمان نے سرکاری موقف دیتے ہوئے کہا ہے ایا: ’جوہری پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے ان کی حکومت کا طویل عرصے سے جو معروف مؤقف ہے، شاہ چارلس اس سے آگاہ ہیں۔‘
برطانیہ کے بادشاہ چارلس اور ملکہ کمیلا پارکر کے اعزاز میں وائٹ ہاؤس میں ایک سرکاری عشائیہ دیا گیا۔ اس موقع پر برطانوی بادشاہ اور امریکی صدر کی گفتگو میں مزاح کے ساتھ ساتھ تاریخی حوالے بھی شامل تھے۔ جبکہ شاہ چارلس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک گھنٹی کا تحفہ بھی دیا۔
برطانوی بادشاہ نے اوکس (آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکا میں اتحاد) اور نیٹو اتحاد کی اہمیت پر زور دیا تاکہ ’دونوں ملکوں میں تیکنیکی اور عسکری تعاون بڑھایا جا سکے۔‘
اس کے بعد انھوں نے سنہ 1944 میں برطانیہ کے ایک شپ یارڈ سے لانچ کی گئی ایک آبدوز کا ذکر کیا۔
اس آبدوز کا نام ایچ ایم ایس ٹرمپ تھا اور اس نے دوسری عالمی جنگ میں حصہ لیا تھا۔ شاہ چارلس نے اس آبدوز میں نصب گھنٹی بطور تحفہ امریکی صدر کو دی اور کہا ’اگر کبھی ہم سے رابطہ کرنا ہو تو بس گھنٹی بجا دیجیے گا۔‘
عشائیے کے دوران شاہ چارلس اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دونوں نے اپنی تقاریر میں مزاحیہ جملوں کا سہارا لیا۔ صدر ٹرمپ نے کانگریس میں شاہ چارلس کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ڈیموکریٹس کو کھڑے ہو کر داد دینے پر مجبور کر دیا، جو ان کے بقول وہ خود نہیں کر سکے۔
شاہ چارلس نے وائٹ ہاؤس کے ایسٹ ونگ میں حالیہ تبدیلیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے سنہ 1814 میں برطانوی افواج کی جانب سے وائٹ ہاؤس کو نذر آتش کیے جانے کا حوالہ دیا اور کہا ’ہم نے سنہ 1814 میں وائٹ ہاؤس کی از سر نو تعمیر کی اپنی کوشش کی تھی۔‘
اپنی گفتگو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نہ ہوتا تو یورپ جرمن بول رہا ہوتا، اس کے جواب میں شاہ چارلس نے کہا کہ شاید برطانیہ نہ ہوتا تو امریکی شہری فرانسیسی زبان بول رہے ہوتے۔

