ایتھنز: یونان کے پرامن شہر ایتھنز میں منگل کا دن اس وقت دہشت اور خوف کی علامت بن گیا جب ایک 89 سالہ ریٹائرڈ بزرگ نے انصاف نہ ملنے پر آپے سے باہر ہو کر بندوق اٹھا لی۔ اس مبینہ مسلح حملے میں کئی افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ یونانی دارالحکومت میں اس نوعیت کے تشدد نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق، شاٹ گن سے لیس معمر مشتبہ شخص سب سے پہلے وسطی ایتھنز میں واقع سوشل سیکیورٹی کے دفتر میں داخل ہوا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بزرگ شہری نے وہاں موجود ایک اہلکار پر فائرنگ کی جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔ پولیس کے پہنچنے سے قبل ہی حملہ آور موقع واردات سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
سوشل سیکیورٹی دفتر پر حملے کے فوراً بعد، مسلح شخص سٹی کورٹ پہنچا اور گراؤنڈ فلور پر اندھا دھند گولیاں چلا دیں، جس کے نتیجے میں وہاں موجود متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ فائرنگ کے بعد ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملا؛ ملزم نے جائے وقوعہ پر دستاویزات سے بھرے کئی لفافے فرش پر پھینکے اور بلند آواز میں دعویٰ کیا کہ یہ کاغذات اور ان میں چھپا درد ہی اس کی کارروائی کی اصل وجہ ہے۔
ملزم کے قریبی ذرائع اور مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ:
ملزم ایک ریٹائرڈ ورکر ہے جس کی پنشن گزشتہ کئی ماہ سے بند کر دی گئی تھی گزشتہ 4 ماہ سے مسلسل عدالتوں کے چکر کاٹ رہا تھا تاکہ اس کی پنشن بحال ہو سکے، لیکن کیس کی سماعتیں بغیر کسی فیصلے کے لٹک رہی تھیں۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے ملزم کی شاٹ گن برآمد کر لی ہے اور مفرور بزرگ کو تلاش کرنے کے لیے ایک بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ یونان میں اسلحہ رکھنے کے قوانین انتہائی سخت ہیں اور وہاں فائرنگ کے ایسے واقعات انتہائی نایاب تصور کیے جاتے ہیں۔
اس واقعے نے یونان کے عدالتی اور سماجی تحفظ کے نظام پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ کیا ایک بزرگ شہری کو انصاف کے لیے بندوق اٹھانے تک مجبور ہونا چاہیے؟

