Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      لاہور اور فیصل آباد سے بڑی شروعات؛ کیا آپ کی گاڑی بھی 20 سال پرانی ہے؟

      جنوری 2027 سے 15 سال سے کم عمر بچوں کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند ہو جائیں گے!

      جعلی ،غیر قانونی اشیا فروخت کرنے پر علی ایکسپریس پر ریکارڈ 550 ملین یورو کا جرمانہ

      پاکستانی فری لانسرز کا شاندار کارنامہ؛ تین سال میں کتنے ارب ڈالر کمائے؟

      اینڈرائیڈ 16 سیکیورٹی خامی کی نشاندہی، گوگل کی تصدیق

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    پنجاب پولیس کا ‘چوہنگ سکینڈل’: کروڑوں کے فنڈز ڈکارنے والے بڑے افسران بے نقاب؛

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:آصف چودھری
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    سندھ پولیس میں کرپشن کی داستانیں تو زبان زدِ عام رہی ہیں، لیکن اب  پنجاب میں بھی بڑے پولیس افسران کے دامن پر کرپشن کے وہ داغ نظر آنے لگے ہیں جنہیں دھونا مشکل ہی نہیں، ناممکن لگ رہا ہے۔ ڈان اخبار میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ نے لاہور کے پولیس بیوروکریسی (PSP کیڈر) میں وہ بھونچال پیدا کر دیا ہے کہ اب پردہ پوشی کرنے والے ‘پیٹی بھائیوں’ کی تمام تر کوششیں ناکام ہوتی نظر آ رہی ہیں۔

    اس لرزہ خیز کہانی کا آغاز ملتان کے ایک سابق آر پی او (RPO) کی ٹرانسفر سے ہوتا ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ فروری میں بطور پولیس کمانڈنٹ چوہنگ تعیناتی سے محض 3 دن قبل کالج کے اکاؤنٹس سے مبینہ طور پر 6 کروڑ 60 لاکھ روپے کی خطیر رقم نکال لی گئی۔
    ستم بالائے ستم یہ کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔ اس سے تقریباً 7 ماہ قبل بھی 8 کروڑ 70 لاکھ روپے کی ایک اور بڑی رقم مبینہ طور پر غائب کر دی گئی۔ یہ وہ فنڈز تھے جو ان غریب اہلکاروں کے لیے مختص تھے جو تپتی دھوپ اور خون جما دینے والی سردی میں ٹریننگ کے لیے یہاں آتے ہیں، لیکن ان کی سہولیات کے بجائے یہ رقم مخصوص جیبوں کی نذر کر دی گئی۔
    سنگل وینڈر، ناقص تعمیرات اور خرد برد کی انتہا
    تحقیقات میں مزید چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے ہیں:
    ناقص شیڈز: زیرِ تربیت اہلکاروں کے لیے بنائے گئے شیڈز کی تعمیر میں ناقص مٹیریل استعمال ہوا، جبکہ کاغذوں میں زمین آسمان کا فرق دکھا کر فنڈز ہضم کیے گئے۔
    ون وینڈر مافیا: گزشتہ دو سال سے زائد عرصے سے ایک ہی وینڈر سے تمام کام لیا جا رہا ہے، جو سسٹم میں موجود ملی بھگت کا واضح ثبوت ہے۔
    دیگر اداروں کا فنڈ: کسٹمز ڈیپارٹمنٹ اور PERA Force کی جانب سے اپنے اہلکاروں کی ٹریننگ کے لیے دیے گئے کروڑوں کے فنڈز میں بھی مبینہ خرد برد کی گئی۔
    کھانے کا معیار: اہلکاروں کو دیے جانے والے کھانے کے معیار پر سنجیدہ سوالات اٹھے ہیں، جہاں جوان بنیادی ضرورتوں کو ترستے رہے۔
    یہ تمام ‘طوفانِ بدتمیزی’ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب ڈی آئی جی سہیل چودھری نے کمان سنبھالنے کے بعد اندرونی کرپشن پر خاموش رہنے کے بجائے آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم کو سرکاری خط لکھ کر Internal Audit کا مطالبہ کر دیا۔
    آئی جی پنجاب نے ڈی آئی جی فیصل راجہ کی سربراہی میں ٹیم تو بھیج دی، لیکن جیسے ہی ریکارڈ قبضے میں لیا گیا، پولیس افسران کا ایک مخصوص گروپ ‘پردہ پوشی’ کے لیے متحرک ہو گیا۔ کوشش کی گئی کہ آڈٹ رپورٹ کو دبا دیا جائے تاکہ یہ معاملہ وزیراعلیٰ مریم نواز تک نہ پہنچ سکے، جنہوں نے بارہا اعلان کیا تھا کہ کرپشن پر کسی اعلیٰ افسر کو بھی معافی نہیں ملے گی۔
    جب میں نے آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم سے اس بارے میں بات کی، تو انہوں نے کمال مہارت سے کہا، "چودھری صاحب، ابھی تو آڈٹ جاری ہے، میں کیا بات کروں؟” لیکن جب میں نے دوسرا سوال داغا کہ اگر آڈٹ جاری ہے تو ڈی آئی جی سہیل چودھری نے DG Audit Punjab کو دوسرا خط لکھ کر External Audit اور گزشتہ 3 سال کے ریکارڈ کی تحقیقات کا مطالبہ کیوں کیا؟ تو آئی جی صاحب کافی دیر سوچتے رہے اور پھر کہا، "میری نظروں سے دوسرا خط نہیں گزرا۔” حیرت ہے کہ آئی جی پنجاب کو اپنے ماتحت کے دوسرے خط کا علم نہیں، جبکہ وہ خطوط مجھ تک پہنچ چکے ہیں۔
    اس تمام صورتحال کے دوران ڈی جی ایف آئی اے (سابق آئی جی پنجاب) عثمان انور کی کال آئی۔ انہوں نے پانچ منٹ اس خبر پر گفتگو کی اور میری تحقیقاتی صحافت کو سراہتے ہوئے کھانے کی دعوت دی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ جب وہ آئی جی تھے، تب بھی وہ میری تنقیدی خبروں کے معترف تھے۔ یہ ان کا بڑا پن ہے کہ تنقید کے باوجود انہوں نے پیشہ ورانہ تعلق برقرار رکھا۔
    اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا مریم نواز شریف اپنے وعدے کے مطابق ان ‘بڑے مگرمچھوں’ پر ہاتھ ڈالیں گی؟ کیا چوہنگ کالج کے اکاؤنٹس کا شفاف آڈٹ ہو پائے گا یا ‘پی ایس پی لابی’ ایک بار پھر حقائق کو فائلوں کے نیچے دبا دے گی؟ یہ سوال اب پنجاب کی بیوروکریسی اور حکومت کے لیے ایک ٹیسٹ کیس بن چکا ہے۔

    Related Posts

    پنجاب کے سرکار ی ملازمین کومبارک،وفاق کی طرزپرتنخواہوں میں اضافہ،نوٹیفکیشن جاری

    موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ،32سالہ خاتون ہلاک

    وزیرِ پیٹرولیم کا آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن اور پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وفد کے ساتھ اجلاس

    مقبول خبریں

    پنجاب کے سرکار ی ملازمین کومبارک،وفاق کی طرزپرتنخواہوں میں اضافہ،نوٹیفکیشن جاری

    موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ،32سالہ خاتون ہلاک

    وزیرِ پیٹرولیم کا آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن اور پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وفد کے ساتھ اجلاس

    قصداً ’نو بال‘ پھینکنے پر اب ملے گی سخت ترین سزا، کرکٹ میں نیا اصول نافذ

    مودی جی! غرور چھوڑ کر طلبہ کی آواز سنیں اور ان کے 3 مطالبات فوری پورے کریں‘، راہل گاندھی

    بلاگ

    سرائے سدھو میں منشیات فروشوں کا راج

    شدید بارشیں ،سیلاب کا امکان اوراحتیاطی تدابیر

      پولٹری فارمنگ کے ذریعے دیہی خواتین کو بااختیار بنانا

    اور:-شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔

    تحفظ کی اپیل سے قتل تک ایک جان جو بچائی جا سکتی تھی

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.