تحریر:آصف چودھری
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
سندھ پولیس میں کرپشن کی داستانیں تو زبان زدِ عام رہی ہیں، لیکن اب پنجاب میں بھی بڑے پولیس افسران کے دامن پر کرپشن کے وہ داغ نظر آنے لگے ہیں جنہیں دھونا مشکل ہی نہیں، ناممکن لگ رہا ہے۔ ڈان اخبار میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ نے لاہور کے پولیس بیوروکریسی (PSP کیڈر) میں وہ بھونچال پیدا کر دیا ہے کہ اب پردہ پوشی کرنے والے ‘پیٹی بھائیوں’ کی تمام تر کوششیں ناکام ہوتی نظر آ رہی ہیں۔
اس لرزہ خیز کہانی کا آغاز ملتان کے ایک سابق آر پی او (RPO) کی ٹرانسفر سے ہوتا ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ فروری میں بطور پولیس کمانڈنٹ چوہنگ تعیناتی سے محض 3 دن قبل کالج کے اکاؤنٹس سے مبینہ طور پر 6 کروڑ 60 لاکھ روپے کی خطیر رقم نکال لی گئی۔
ستم بالائے ستم یہ کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔ اس سے تقریباً 7 ماہ قبل بھی 8 کروڑ 70 لاکھ روپے کی ایک اور بڑی رقم مبینہ طور پر غائب کر دی گئی۔ یہ وہ فنڈز تھے جو ان غریب اہلکاروں کے لیے مختص تھے جو تپتی دھوپ اور خون جما دینے والی سردی میں ٹریننگ کے لیے یہاں آتے ہیں، لیکن ان کی سہولیات کے بجائے یہ رقم مخصوص جیبوں کی نذر کر دی گئی۔
سنگل وینڈر، ناقص تعمیرات اور خرد برد کی انتہا
تحقیقات میں مزید چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے ہیں:
ناقص شیڈز: زیرِ تربیت اہلکاروں کے لیے بنائے گئے شیڈز کی تعمیر میں ناقص مٹیریل استعمال ہوا، جبکہ کاغذوں میں زمین آسمان کا فرق دکھا کر فنڈز ہضم کیے گئے۔
ون وینڈر مافیا: گزشتہ دو سال سے زائد عرصے سے ایک ہی وینڈر سے تمام کام لیا جا رہا ہے، جو سسٹم میں موجود ملی بھگت کا واضح ثبوت ہے۔
دیگر اداروں کا فنڈ: کسٹمز ڈیپارٹمنٹ اور PERA Force کی جانب سے اپنے اہلکاروں کی ٹریننگ کے لیے دیے گئے کروڑوں کے فنڈز میں بھی مبینہ خرد برد کی گئی۔
کھانے کا معیار: اہلکاروں کو دیے جانے والے کھانے کے معیار پر سنجیدہ سوالات اٹھے ہیں، جہاں جوان بنیادی ضرورتوں کو ترستے رہے۔
یہ تمام ‘طوفانِ بدتمیزی’ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب ڈی آئی جی سہیل چودھری نے کمان سنبھالنے کے بعد اندرونی کرپشن پر خاموش رہنے کے بجائے آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم کو سرکاری خط لکھ کر Internal Audit کا مطالبہ کر دیا۔
آئی جی پنجاب نے ڈی آئی جی فیصل راجہ کی سربراہی میں ٹیم تو بھیج دی، لیکن جیسے ہی ریکارڈ قبضے میں لیا گیا، پولیس افسران کا ایک مخصوص گروپ ‘پردہ پوشی’ کے لیے متحرک ہو گیا۔ کوشش کی گئی کہ آڈٹ رپورٹ کو دبا دیا جائے تاکہ یہ معاملہ وزیراعلیٰ مریم نواز تک نہ پہنچ سکے، جنہوں نے بارہا اعلان کیا تھا کہ کرپشن پر کسی اعلیٰ افسر کو بھی معافی نہیں ملے گی۔
جب میں نے آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم سے اس بارے میں بات کی، تو انہوں نے کمال مہارت سے کہا، "چودھری صاحب، ابھی تو آڈٹ جاری ہے، میں کیا بات کروں؟” لیکن جب میں نے دوسرا سوال داغا کہ اگر آڈٹ جاری ہے تو ڈی آئی جی سہیل چودھری نے DG Audit Punjab کو دوسرا خط لکھ کر External Audit اور گزشتہ 3 سال کے ریکارڈ کی تحقیقات کا مطالبہ کیوں کیا؟ تو آئی جی صاحب کافی دیر سوچتے رہے اور پھر کہا، "میری نظروں سے دوسرا خط نہیں گزرا۔” حیرت ہے کہ آئی جی پنجاب کو اپنے ماتحت کے دوسرے خط کا علم نہیں، جبکہ وہ خطوط مجھ تک پہنچ چکے ہیں۔
اس تمام صورتحال کے دوران ڈی جی ایف آئی اے (سابق آئی جی پنجاب) عثمان انور کی کال آئی۔ انہوں نے پانچ منٹ اس خبر پر گفتگو کی اور میری تحقیقاتی صحافت کو سراہتے ہوئے کھانے کی دعوت دی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ جب وہ آئی جی تھے، تب بھی وہ میری تنقیدی خبروں کے معترف تھے۔ یہ ان کا بڑا پن ہے کہ تنقید کے باوجود انہوں نے پیشہ ورانہ تعلق برقرار رکھا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا مریم نواز شریف اپنے وعدے کے مطابق ان ‘بڑے مگرمچھوں’ پر ہاتھ ڈالیں گی؟ کیا چوہنگ کالج کے اکاؤنٹس کا شفاف آڈٹ ہو پائے گا یا ‘پی ایس پی لابی’ ایک بار پھر حقائق کو فائلوں کے نیچے دبا دے گی؟ یہ سوال اب پنجاب کی بیوروکریسی اور حکومت کے لیے ایک ٹیسٹ کیس بن چکا ہے۔


