اسلام آباد/نیویارک: پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی نہیں بلکہ "گھڑیال” بج چکا ہے۔ اقوام متحدہ (UN) کی تازہ ترین رپورٹ نے پاکستان کو دنیا کے ان 10 ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا ہے جو بھوک اور غذائی قلت سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ اس سنگین بحران کی سب سے بڑی وجہ قدرتی آفات اور پٹرول کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافہ اور پاکستانیوں کی تیزی سے گرتی ہوئی فی کس آمدنی (Per Capita Income) قرار دی گئی ہے۔ورلڈ بینک اور حالیہ معاشی اعداد و شمار کے مطابق، اگرچہ پورے جنوبی ایشیا میں پٹرول کی قیمتیں ڈالر کے لحاظ سے تقریباً برابر ہیں، لیکن پاکستانیوں کی قوتِ خرید اس وقت خطے میں سب سے کمزور ہے۔ درج ذیل ٹیبل سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے;
| ملک | سالانہ فی کس آمدنی (امریکی ڈالر) | پٹرول کی قیمت (امریکی ڈالر/لیٹر) | پٹرول کی قیمت (مقامی کرنسی) |
| پاکستان | $1,400 – $1,600 | $1.41 | 393 روپے |
| بھارت | $2,600 – $2,700 | $1.10 | 310 – 315 روپے |
| بنگلہ دیش | $2,500 – $2,600 | $1.05 | 325 – 335 روپے |
| سری لنکا | $4,500+ | $1.40 | 355 – 365 روپے |
حیرت انگیز طور پر، سری لنکا جس نے 2022 میں خود کو دیوالیہ قرار دیا تھا، آج 4,500 ڈالر فی کس آمدنی کے ساتھ پاکستان سے کہیں بہتر پوزیشن میں ہے۔ دوسری طرف، پاکستان میں فی کس آمدنی محض 1,400 سے 1,600 ڈالر کے درمیان ہے، جس کا مطلب ہے کہ ایک عام پاکستانی اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ صرف ایندھن اور ٹرانسپورٹ پر خرچ کرنے پر مجبور ہے، جس کے نتیجے میں "کچن بجٹ” تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔
حکومت نے حال ہی میں پٹرول کی قیمت میں 26.77 روپے کا مزید اضافہ کر کے اسے 393.35 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات کے باعث پٹرول مہنگا ہونے سے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں براہِ راست متاثر ہوتی ہیں۔ جب آمدنی کا بڑا حصہ پٹرول اور بجلی کے بلوں میں چلا جائے گا، تو عوام پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھا سکیں گے۔
پاکستان اس وقت جنوبی ایشیا کی واحد بڑی معیشت ہے جہاں صارفین پٹرول کی عالمی لہروں کے سامنے سب سے زیادہ بے بس ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، اگر آمدنی میں فوری اضافہ اور قیمتوں میں استحکام نہ لایا گیا، تو پاکستان میں بھوک اور افلاس کی شرح میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کا شمار اب ان ممالک میں ہو رہا ہے جہاں غذائی تحفظ (Food Security) ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ "ہمیں پڑوسی ممالک کی مثالیں دی جاتی ہیں، لیکن وہاں کی آمدنی اور یہاں کی مہنگائی کا کوئی موازنہ ہی نہیں”۔ پاکستان کا نام دنیا کے 10 بھوکے ترین ممالک میں آنا حکومتی معاشی پالیسیوں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔

