اسلام آباد: اقوام متحدہ کے زیرِ انتظام غذائی تحفظ کی عالمی درجہ بندی (IPC) نے پاکستان کے حوالے سے ایک ہولناک رپورٹ جاری کی ہے، جس نے ملک میں انسانی المیے کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی ایک بڑی آبادی اس وقت ایسے ‘غذائی بحران’ کی لپیٹ میں ہے جہاں زندہ رہنے کے لیے فوری امداد ناگزیر ہو چکی ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک کے 17 لاکھ افراد اس وقت "ہنگامی حالت” (Emergency Phase) میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ وہ درجہ بندی ہے جو قحط (Famine) سے پہلے کا آخری اور سب سے خطرناک مرحلہ قرار دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک کروڑ سے زائد افراد "بحران” کی سطح پر ہیں، جنہیں اپنی جان اور روزگار بچانے کے لیے فوری خوراک کی ضرورت ہے۔

60 لاکھ سے زائد افراد کو براہِ راست متاثر کیا۔
وسیع رقبے پر کھڑی فصلیں اور زرعی بنیادی ڈھانچہ تباہ کر دیا۔
دیہی علاقوں میں روزگار کے ذرائع کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔
ہائی الرٹ زونز: بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا
تجزیاتی رپورٹ میں بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا کو "ہائی الرٹ” زونز قرار دیا گیا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ متاثرہ اضلاع کی تعداد 43 سے بڑھ کر 68 ہو چکی ہے، جس کے باعث متاثرہ آبادی کا تناسب 16 فیصد سے بڑھ کر 21 فیصد تک جا پہنچا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ سال 2026 میں مہنگائی کی شرح 6 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جو پہلے سے سسکتی ہوئی عوام کی قوتِ خرید کو مزید کچل دے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ:
صاف پانی کی عدم دستیابی اور نکاسیِ آب کے سنگین مسائل۔
بیماریوں کا پھیلاؤ اور غذائیت کی شدید کمی۔
صحت کی سہولیات تک محدود رسائی۔
یہ تمام عوامل مل کر پاکستان کو "غذائی قلت کے خطرے والے ممالک” کی فہرست میں نمایاں کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تجزیاتی دائرہ کار میں اضافے نے اس بحران کی اصل شدت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور عالمی ادارے ہنگامی بنیادوں پر پاکستان کے زرعی نظام کی بحالی اور متاثرہ اضلاع میں خوراک کی فراہمی کو یقینی بنائیں، ورنہ یہ غذائی عدم تحفظ ایک ناقابلِ واپسی انسانی تباہی میں بدل سکتا ہے۔
قحط کی دستک : پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد افراد شدید غذائی بحران کا شکار، 17 لاکھ پاکستانی ہنگامی صورتحال کے دہانے پر، اقوام متحدہ

