واشنگٹن ڈی سی :امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ سمندر میں موجود روسی، ایرانی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری کی اجازت دینے والی رعایت کی مدت میں توسیع کرنے کا امریکا کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
وہ امریکی خبررساں ایجنسی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سمندر میں موجود ایرانی تیل کے لیے دی گئی ایک بار کی رعایت کو آگے بڑھانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بیسنٹ نے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ ’’ایرانیوں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ ہم نے ناکہ بندی کر رکھی ہے اور وہاں سے کوئی تیل باہر نہیں آ رہا۔‘‘
امریکی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ ’’ہمیں لگتا ہے کہ اگلے دو تین دن میں انہیں پیداوار بند کرنی پڑے گی جو ان کے تیل کے کنوؤں کے لیے بہت برا ہو گا۔‘‘ بیسنٹ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف امریکا-اسرائیل جنگ کے حوالے سے دنیا فکر مند ہے اور آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے عالمی توانائی کی منڈی بحران کا شکار ہے۔
واضح رہے کہ امریکا نے خام تیل کی قیمتیں 100 امریکی ڈالر فی بیرل سے اوپر جانے کے بعد عالمی توانائی کی منڈیوں کو مستحکم کرنے کی غرض سے مارچ میں روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کے لیے رعایت دی تھی۔ اس کے بعد بیسنٹ نے ’وائٹ ہاؤس‘ میں کہا تھا کہ پابندیوں سے دی گئی رعایت کی مدت میں توسیع کا ان کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، لیکن اس کے محض 2 دن بعد ہی وزارت خزانہ نے چھوٹ کی مدت بڑھا دی تھی۔

