اسلام آباد: ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور سکڑتی ہوئی قوتِ خرید کے بیچ مہنگائی کے جن نے عوام کو بے حال کر دیا ہے۔ ادارہ شماریات کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 23 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مہنگائی کی سالانہ شرح جست لگا کر 13.98 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ ہفتے 12.16 فیصد تھی۔
حکومتی دعووں کے برعکس، حساس قیمتوں کے اشاریے (SPI) میں اس ہوش رُبا اضافے کی سب سے بڑی وجہ بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق:
بجلی کے نرخ: 54.02 فیصد اضافہ (پہلی سہ ماہی)
ایل پی جی: 50.68 فیصد اضافہ
پٹرول و ڈیزل: بالترتیب 44.10 اور 36.76 فیصد اضافہ
بنیادی ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اس قدر اضافے نے نہ صرف مڈل کلاس کو متاثر کیا ہے بلکہ دہاڑی دار طبقے کو خطِ غربت سے بھی نیچے دھکیل دیا ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک سال کے دوران آٹے کی قیمت میں 36 فیصد، پیاز میں 31 فیصد اور ٹماٹر میں 23 فیصد اضافہ ہوا۔ گوشت (بیف و مٹن) اور دودھ کی قیمتیں بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے سفید پوش طبقہ فاقہ کشی پر مجبور ہے۔
اعداد و شمار کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ 17,733 سے 22,888 روپے ماہانہ کمانے والا طبقہ مہنگائی سے سب سے زیادہ (14.16 فیصد) متاثر ہوا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے، وہاں کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے 11 سے 14 فیصد مہنگائی کا مطلب یہ ہے کہ وہ اب اپنی بنیادی غذائی ضروریات بھی پوری نہیں کر پا رہے۔
اگرچہ ہفتہ وار بنیادوں پر ٹماٹر اور پیاز کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، لیکن آلو، انڈے، مرغی اور کوکنگ آئل جیسی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ حکومت کے ‘قیمتوں پر کنٹرول’ کے دعووں کو فلاپ ثابت کر رہا ہے۔ 51 میں سے 19 اشیاء کی قیمتوں میں حالیہ ہفتے ہونے والا اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مارکیٹ پر انتظامی گرفت نہ ہونے کے برابر ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف فیکٹریاں بند ہونے سے بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف بجلی کے بھاری بلوں اور اشیائے خوردونوش کی مہنگائی نے جینا محال کر دیا ہے۔ شہریوں کے مطابق، حکومت کے معاشی اقدامات غریب کو ریلیف دینے کے بجائے اسے مزید پسماندگی اور غربت کے گڑھے میں گرانے کا سبب بن رہے ہیں۔
مہنگائی کی سالانہ شرح 14 فیصد ، حکومتی اقدامات ریت کی دیوار ، غریب طبقہ خطِ غربت سے نیچے سسکنے پر مجبور، محکمہ شماریات کی رپورٹ جاری

