لاہور: خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے کروڑوں شہریوں پر پنجاب حکومت نے ایک اور مالی بوجھ لاد دیا ہے۔ صوبائی کابینہ نے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کی فیس میں یکمشت 175 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد اب ایک عام شہری کو ڈومیسائل کے لیے 200 روپے کے بجائے 550 روپے ادا کرنے ہوں گے۔
حکومت نے ‘پیپر لیس’ نظام کے نام پر اخراجات کی جو نئی فہرست جاری کی ہے وہ کچھ یوں ہے:
بنیادی فیس: 200 روپے
ای-ایفی ڈیوٹ (بیانِ حلفی): 100 سے بڑھا کر 300 روپے
سروس چارجز (PITB): 50 روپے
مجموعی ادائیگی: 550 روپے (علاوہ کوریئر چارجز)
حکومت کا دعویٰ ہے کہ اب شہریوں کو لائنوں میں نہیں لگنا پڑے گا اور ڈومیسائل گھر بیٹھے کوریئر کے ذریعے مل جائے گا، جس کے لیے الگ سے 60 روپے وصول کیے جائیں گے۔ تاہم، ناقدین اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جہاں لوگ دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں، وہاں 200 روپے کی چیز 550 روپے میں کر دینا غریب دشمنی ہے۔
سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس فیصلے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ:
"پہلے ہی آٹا، بجلی اور پیٹرول پہنچ سے باہر ہیں، اب کیا اپنے ہی ضلع کا رہائشی ہونے کا ثبوت دینے کے لیے بھی ہمیں بھاری قیمت چکانی پڑے گی؟ ڈیجیٹل سسٹم سہولت کے لیے ہوتا ہے یا خزانہ بھرنے کے لیے؟”
نئے سسٹم کے تحت مینوئل ادائیگی مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے اور اب تمام فیسیں صرف ‘ای پے پنجاب’ (e-Pay) کے ذریعے وصول کی جائیں گی۔ اگرچہ پی آئی ٹی بی کا کہنا ہے کہ ایک درخواست پر ان کا اوسط خرچ صرف 27 روپے ہے، لیکن عوام سے 550 روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔
ایسے وقت میں جب افراطِ زر نے عام آدمی کا جینا محال کر رکھا ہے، سرکاری دستاویزات کی قیمتوں میں اتنا بڑا اضافہ نچلے طبقے کو مزید دیوار سے لگانے کے مترادف ہے۔
عوام مہنگائی کے سمندر میں غرق، پنجاب حکومت کا ایک اور ‘ڈیجیٹل وار’: ڈومیسائل فیس میں 175 فیصد ظالمانہ اضافہ

