اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اس وقت تاریخ کی اہم ترین سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے نور خان ایئر بیس پہنچنے کے بعد، اب وائٹ ہاؤس کے اہم ترین مہروں کی آمد نے اس تجسس کو عروج پر پہنچا دیا ہے کہ کیا پاکستان کی سرزمین پر امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی بڑا بریک تھرو ہونے والا ہے؟
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کسی عام سفارتی پروٹوکول سے بڑھ کر تھا۔ نور خان ایئر بیس پر فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے خود ان کا استقبال کیا، جو اس دورے کی غیر معمولی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔ تہران سے آنے والے وفد نے فوری طور پر پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کیں، جن کی تصاویر نے عالمی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
ابھی ایرانی وزیر خارجہ اسلام آباد میں ہی تھے کہ وائٹ ہاؤس کے اس اعلان نے کھلبلی مچا دی کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی ہفتے کے روز اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ سرکاری طور پر یہ کہا گیا ہے کہ امریکی وفد ایرانی موقف کو ‘براہِ راست’ سننے کے لیے آ رہا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان اب محض ایک میزبان نہیں بلکہ ایک طاقتور ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔
سفارتی معمہ: مذاکرات یا صرف پیغام رسانی؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ عباس عراقچی کے دورے کو ایرانی میڈیا نے "مشاورتی مشن” قرار دیا ہے جو اسلام آباد کے بعد مسقط اور ماسکو بھی جائیں گے۔ تاہم، ایک ہی وقت میں امریکی اور ایرانی اعلیٰ حکام کا ایک ہی شہر میں ہونا کسی "اتفاق” سے بڑھ کر دکھائی دیتا ہے۔
یادرہے ابھی تک کسی بھی فریق نے باقاعدہ دو طرفہ ملاقات کا شیڈول جاری نہیں کیا۔
ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کے بارہا اعلانات کے باوجود، عباس عراقچی کی اچانک آمد نے امید کی نئی شمع روشن کر دی ہے۔
پاکستان کا کلیدی کردار
سفارتی حلقوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا فیلڈ مارشل عاصم منیر کی براہِ راست اور ہمہ جہتی حکمت عملی واشنگٹن اور تہران کو ایک ہی میز پر بٹھانے میں کامیاب ہو جائے گی؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اس وقت دنیا کے سب سے مشکل "سفارتی توازن” کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جہاں ایک طرف امریکی صدر کے بااعتماد ساتھی ہیں اور دوسری طرف ایران کے تجربہ کار سفارتکار۔
اگرچہ ابھی تک باقاعدہ مذاکرات کے دوسرے دور کا اعلان نہیں ہوا، لیکن اسلام آباد کی فضاؤں میں موجود یہ ہائی پروفائل مہمان اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ پردے کے پیچھے کچھ بہت بڑا پک رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اسلام آباد مشرقِ وسطیٰ میں امن کا ‘پوائنٹ زیرو’ ثابت ہوگا یا یہ معاملہ صرف پیغام رسانی تک ہی محدود رہے گا۔
اسلام آباد بنا عالمی مرکز: ایرانی وفد لینڈ کرچکا، امریکی ایلچی بھی پہنچ گئے؛ پسِ پردہ صدی کی بڑی ڈیل ہونے والی ہے؟

