واشنگٹن ڈی سی :وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے معاملے پر ’لچک کا مظاہرہ کیا۔‘
NEW: Karoline Leavitt says the White House has witnessed "progress” from Iran on peace talks:
"We’ve certainly seen some progress from the Iranian side in the last couple of days.
"The president has made the decision to send Steve and Jared to hear the Iranians out.” pic.twitter.com/Y3Kx3Vp5Q9
— Fox News (@FoxNews) April 24, 2026
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر نے اسی لیے سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر کو اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ ’ایرانیوں کا موقف براہِ راست سن سکیں۔لیویٹ نے کہا کہ ایرانی وفد براہ راست بات چیت چاہتا ہے اور صدر ’ہمیشہ سفارت کاری کو ایک موقع دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو امید ہے کہ اس ملاقات سے مثبت پیش رفت سامنے آئے گی تاہم ’دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس ’سٹینڈ بائی‘ پر ہوں گے۔ ان کے مطابق امریکا انھیں پاکستان بھیجنے کے لیے تیار ہو گا اگر اسے ان کے وقت کا صحیح استعمال سمجھا گیا۔صحافیوں کے ساتھ مختصر گفتگو کے دوران وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران امریکا نے ’ایرانی کی جانب سے مثبت پیش رفت‘ دیکھی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایرانی ’براہ راست بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔‘
لیویٹ نے مزید کہا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی بھی دنیا کے لیے ایک اور ’کامیابی‘ ہے اور انھیں امید ہے کہ وہ دن آئے گا جب امریکا دونوں ممالک کے رہنماؤں کا وائٹ ہاؤس میں استقبال کر سکے گا۔

