اسلام آباد (نیوز ڈیسک): امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی نازک جنگ بندی ختم ہونے کے قریب ہے، اور علاقائی ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک نے اسلام آباد میں نئے مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔
ہفنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ امریکا یا ایران نے عوامی سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی ہے، لیکن پاکستانی ثالثوں نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے ٹاپ مذاکرات کار، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف، بدھ کی صبح اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔
الجزیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے پاکستان کو "غیر رسمی طور پر” آگاہ کیا ہے کہ جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد واشنگٹن سے روانہ ہو جائے گا، تو وہ اپنے وفد کو اسلام آباد جانے کے لیے ہری جھنڈی دکھائے گا۔
ایک پاکستانی سرکاری ذریعے نے منگل کے روز "العربیہ” اور "الحدث” کو بتایا ہے کہ مذاکرات کا دوسرا دور اپنے مقررہ وقت پر منعقد ہو گا۔ ساتھ ہی امریکا اور ایران کے وفود کی آج بیک وقت اسلام آباد پہنچنے کی تصدیق بھی کی گئی ہے۔پاکستانی سرکاری ذریعے نے اشارہ دیا کہ "ہمارے پاس فی الحال امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔”سی این این (CNN) نے اپنے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بدھ کی صبح 22 اپریل کو پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں ہوگا۔ نیٹ ورک کے مطابق امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قاليباف کے پاس ہو گی۔
8 اپریل سے جاری عارضی جنگ بندی بدھ کو ختم ہو رہی ہے۔ مذاکرات سے پہلے دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتباہ دیا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو "بہت سارے بم” چلنا شروع ہو جائیں گے۔ دوسری طرف، ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے ایسی کسی بھی خبر کی تردید کی ہے کہ ان کا کوئی وفد پاکستان پہنچا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی ٹی وی پر ہارڈ لائنرز کا قبضہ ہے اور یہ تردید غالباً ایران کے اندرونی تضادات کو ظاہر کرتی ہے، خاص طور پر گزشتہ اختتام ہفتہ امریکی بحریہ کی جانب سے ایرانی بحری جہاز کو قبضے میں لیے جانے کے واقعے کے بعد۔
وائٹ ہاؤس کے حکام نے جے ڈی وینس کی قیادت کی تصدیق کی ہے، جبکہ ایران نے گزشتہ اختتام ہفتہ کہا تھا کہ اسے واشنگٹن سے نئی تجاویز موصول ہوئی ہیں، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان ابھی بھی بڑے تضادات موجود ہیں۔ اہم مسائل میں ایران کا جوہری پروگرام، علاقائی گروپس اور آبنائے ہرمز شامل ہیں۔ ایرانی سپیکر قالیباف نے منگل کے روز امریکا پر ایران سے سرنڈر (ہتھیار ڈالنے) کا مطالبہ کرنے کا الزام لگایا اور دھمکی دی کہ ایران کے پاس میدان جنگ کے لیے "نئے کارڈز” موجود ہیں، جو ابھی تک سامنے نہیں لائے گئے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ "ہم دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں کرتے۔” اس تمام کشیدگی کے باوجود، پاکستانی حکام پرامید ہیں کہ ایران آج رات دیر گئے اپنا وفد بھیجے گا تاکہ مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکیں۔

