اسلام آباد : ملک میں مہنگائی کا جن قابو سے باہر ہو چکا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات اب دسترخوانوں تک پہنچ گئے ہیں، جہاں چکن کی قیمتوں میں چند ہی دنوں میں 70 فیصد تک ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کی تازہ ترین رپورٹ نے عوام کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ملک بھر کے مختلف شہروں میں چکن کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں:
زندہ مرغی: ایک ہی دن میں 35 روپے فی کلو اضافے کے بعد قیمت 490 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
کئی شہروں میں مرغی کا گوشت 780 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے، جس نے متوسط طبقے کے لیے گوشت کا حصول مشکل بنا دیا ہے۔
مہنگائی کی شرح 9 فیصد سے اوپر
وفاقی ادارہ شماریات (PBS) کی جاری کردہ ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق، سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 8.24 فیصد سے بڑھ کر 9.12 فیصد ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق:
15 اشیائے ضروریہ مہنگی، حالیہ ہفتے کے دوران مٹن، بیف، ٹماٹر، انڈے، دودھ اور دالوں سمیت 15 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
ایل پی جی کی قیمتوں میں 13.28 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا۔
انڈوں کی قیمتوں میں 2.23 فیصد، مٹن میں 1.54 فیصد اور بیف کی قیمتوں میں 0.39 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
عوام کی مشکلات میں اضافہ
ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھا دیے ہیں، جس کا براہِ راست اثر اشیائے خوردونوش پر پڑ رہا ہے۔ اگرچہ 9 اشیاء کی قیمتوں میں معمولی کمی اور 27 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہی ہیں، لیکن بنیادی ضرورت کی اشیاء (گوشت، دودھ، دالیں) کے مہنگے ہونے سے عام آدمی کا بجٹ بری طرح درہم برہم ہو چکا ہے۔
”مرغی نے پرواز بھر لی“: پٹرول بم کے بعد مہنگائی کا نیا طوفان، چکن 780 روپے کلو تک جا پہنچا

