واشنگٹن : امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو ایک ہنگامی اور خفیہ پیغام جاری کیا ہے، جس میں انہیں غیر ملکی ‘پروپیگنڈے’ کے خلاف باقاعدہ محاذ کھولنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ’نفسیاتی جنگ‘ کے لیے ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ (سابقہ ٹویٹر) کو ایک کلیدی ہتھیار کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔
برطانوی اخبار ‘دی گارڈین’ کی جانب سے دیکھی گئی اس کیبل کے مطابق، امریکی سفارت کاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پینٹاگون کے بدنامِ زمانہ ‘سائیکولوجیکل آپریشنز یونٹ’ (Psyop) کے ساتھ مل کر کام کریں۔
اس اشتراک کا مقصد سوشل میڈیا پر امریکہ مخالف بیانیے کو کچلنا اور ایسے مقامی انفلوئنسرز، ماہرینِ تعلیم اور کمیونٹی لیڈرز کو بھرتی کرنا ہے جو بظاہر ‘مقامی’ لگیں لیکن درحقیقت امریکی ایجنڈے کو فروغ دیں۔
ایلون مسک کا ‘X’: امریکہ کا نیا ڈیجیٹل ڈھال؟
رپورٹ کے مطابق، مارکو روبیو نے ایلون مسک کے پلیٹ فارم ‘X’ اور اس کے ‘کمیونٹی نوٹس’ (Community Notes) فیچر کو پروپیگنڈے کے خلاف ایک "جدید اور انقلابی” آلہ قرار دے کر اس کی توثیق کی ہے۔
یہ توثیق ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپی یونین ‘X’ پر گمراہ کن معلومات پھیلانے کے الزام میں 120 ملین یورو کا جرمانہ عائد کر چکی ہے۔ ناقدین اسے ایلون مسک اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان بڑھتے ہوئے ‘یارانے’ کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔
سفارت خانوں کو پانچ بڑے اہداف دیے گئے ہیں:
مخالفانہ پیغامات کا توڑ کرنا۔
معلومات تک رسائی کو بڑھانا (امریکی نقطہ نظر کے مطابق)۔
دشمن کے رویوں کو بے نقاب کرنا۔
امریکی مفادات کے حامی مقامی افراد کی آواز بلند کرنا۔
"ٹیلنگ امریکاز اسٹوری” (امریکہ کی کہانی سنانا) کے عنوان سے مہم چلانا۔
جھنڈا دکھا کر امداد دیں!
کیبل میں ایک اور اہم ہدایت یہ دی گئی ہے کہ جہاں بھی امریکی امداد دی جائے، وہاں امریکی پرچم (US Flag) کی برانڈنگ انتہائی نمایاں ہونی چاہیے تاکہ مقامی آبادی کو پتہ چلے کہ ’روٹی‘ کہاں سے آ رہی ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں موجود 700 سے زائد ‘امریکن اسپیسز’ (لائبریریز اور مراکز) کو اب "فری اسپیچ زونز” کے طور پر استعمال کیا جائے گا تاکہ وہاں سے امریکی بیانیہ پھیلایا جا سکے۔
’پروپیگنڈا وار‘: اب ایلون مسک بچائیں گے امریکہ کی لاج؟ مارکو روبیو کا سفارت خانوں کو ’نفسیاتی جنگ‘ شروع کرنے کا حکم!

