لندن : مشہور عالمی جریدے ‘مڈل ایسٹ آئی’ کے ایڈیٹر جو گل نے اپنے ایک فکر انگیز تجزیے میں دعویٰ کیا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے قائم امریکی قیادت میں بین الاقوامی نظام اب مکمل طور پر دم توڑ چکا ہے۔ جو گل کے مطابق، دنیا اس غلط فہمی میں ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں نے اس نظام کو نقصان پہنچایا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی اور اس کے لیے مغربی ممالک کی اندھی حمایت نے اس عالمی نظم و نسق کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔
مغربی منافقت کا پردہ چاک
جو گل نے ڈیووس میں مارک کارنی کے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مغربی رہنما اب اس "رولز بیسڈ آرڈر” (قواعد پر مبنی نظام) کی ناکامی کا اعتراف کر رہے ہیں جس کے وہ خود علمبردار تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ قوانین کبھی بھی آفاقی نہیں تھے بلکہ انہیں صرف مغربی مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ جہاں فلسطین اور وینزویلا جیسے ممالک کو ان قوانین کے نام پر نشانہ بنایا گیا، وہیں طاقتور ممالک ہمیشہ ان سے مستثنیٰ رہے۔
ٹرمپ کا آخری وار
تجزیے کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) پر پابندیاں لگا کر اور اقوامِ متحدہ کے اداروں کے فنڈز روک کر اس نظام کا وہ بھرم بھی توڑ دیا جو تھوڑا بہت باقی تھا۔ اب حالت یہ ہے کہ امریکہ کے قریبی اتحادی بھی اسی جبر کا شکار ہو رہے ہیں جس کا سامنا عرصہ دراز سے "گلوبل ساؤتھ” کے ممالک کر رہے تھے۔
بدلتے ہوئے عالمی اتحاد
جو گل کا کہنا ہے کہ امریکہ کے غیر یقینی رویے اور بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑانے کے بعد اب کینیڈا اور خلیجی ریاستیں جیسے روایتی اتحادی بھی نئے شراکت داروں کی تلاش میں ہیں۔ دنیا اب واشنگٹن پر بھروسہ کرنے کے بجائے متبادل عالمی طاقتوں کی طرف دیکھ رہی ہے، جو ایک نئے عالمی بلاک کی تشکیل کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔

