واشنگٹن/دبئی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک تازہ سوشل میڈیا پوسٹ نے عالمی منڈیوں اور دفاعی ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی ‘ٹروتھ سوشل’ پوسٹ میں مشورہ دیا ہے کہ امریکہ کو آبنائے ہرمز سے اپنی افواج نکالنے پر غور کرنا چاہیے، کیونکہ "جو ممالک اس راستے کو استعمال کرتے ہیں، وہی اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہوں، اب کسی کو ‘مفت سواری’ (Free Ride) نہیں ملے گی۔”
ٹرمپ کی نئی چال: مذاکرات یا پیچھے ہٹنا؟
جس صدر نے 19 دن پہلے 16.5 ارب ڈالر کی مہم شروع کی تھی، اس کا یہ بیان تضاد نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سفارتی چال لگتی ہے۔ ماہرین کے مطابق:
اتحادیوں پر دباؤ: یہ ان ممالک (جرمنی، فرانس، جاپان، آسٹریلیا، انڈیا) کے لیے ایک کھلا انتباہ ہے جنہوں نے امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کیا۔
خوف کا عنصر: ٹرمپ یہ پیغام دے رہے ہیں کہ امریکی تحفظ اب "مشروط” ہے، جس سے اتحادیوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔
ارجنٹینا کی انٹری اور ‘موزیک ڈاکٹرائن’ کا وار
دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں برطانیہ اور فرانس جیسے روایتی اتحادی پیچھے ہٹ گئے، وہاں ارجنٹینا نے اپنے بحری بیڑے بھیجنے کا اعلان کر کے سب کو حیران کر دیا ہے۔ دوسری طرف، ایران کا موزیک ڈاکٹرائن (Mosaic Doctrine) اب امریکی بحری موجودگی کے بغیر بھی کام کر رہا ہے، جس کا مقصد تجارتی گزرگاہوں کو مستقل بند رکھنا ہے۔
خلیجی تنصیبات پر حملوں کا خطرہ اور یو اے ای کا سخت موقف
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی پانچ مخصوص تنصیبات کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کی ہیں اور انہیں خالی کرنے کی وارننگ دی ہے۔
نشانے پر: راس لفان، مسیعید، جبیل، سامریف اور الحصن۔
ردِعمل: متحدہ عرب امارات نے ان دھمکیوں کو باقاعدہ ‘دہشت گردانہ حملے’ قرار دیا ہے، جو کہ اب تک کا سخت ترین سفارتی لہجہ ہے۔
چین کی اسٹریٹجک پیش قدمی
ذرائع کے مطابق جب واشنگٹن پیچھے ہٹنے کی بات کر رہا ہے، چین نے یورپی یونین اور نیٹو کے ساتھ فوجی مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔ بیجنگ خود کو ایک ایسے ‘سیکیورٹی ضامن’ کے طور پر پیش کر رہا ہے جو امریکہ کے خالی کیے ہوئے خلا کو بھرنے کے لیے تیار ہے۔
جنگ کے اثرات عالمی زراعت پر پڑنا شروع ہو گئے ہیں:
یوریا (Urea): قیمت 610 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
خوراک کا بحران: مکئی کی کاشت کم ہو رہی ہے اور مویشیوں کی تعداد 75 سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔
بیمہ (Insurance): شپنگ انشورنس مارکیٹ منجمد ہو چکی ہے، جس سے عالمی تجارت مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔
’’مفت سواری اب نہیں’’ ، ٹرمپ نے اتحادیوں پر’’ہٹ اینڈ رن’’ کارڈ کھیل دیا،آبنائے ہرمز سے نکلنے کی دھمکی،چین کی انٹری


