واشنگٹن :امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے پہلے امریکی فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی ہے جبکہ ان کی لاشیں آخری رسومات کے لئے امریکا پہنچا دی گئی ہیں،
رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے منگل کے روز چار اہلکاروں کے نام جاری کیے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں مزید امریکی ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔
امریکی فوج کے مطابق اب تک ایران جنگ میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے چار کا تعلق آئیوا سے تعلق رکھنے والے امریکی آرمی ریزرو یونٹ سے تھا۔ یہ اہلکار اتوار کے روز اس وقت مارے گئے جب ایک ڈرون نے کویت کی پورٹ شعیبہ میں قائم امریکی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔
پینٹاگون کے مطابق ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی عمریں 20 سے 42 برس کے درمیان تھیں اور وہ ڈیس موئنز، آئیوا میں قائم 103ویں سسٹینمنٹ کمانڈ سے وابستہ تھے، جو امریکی فوج کے عالمی لاجسٹک اور سپلائی آپریشن کا حصہ ہے۔
ہلاک ہونے والے امریکی آرمی ریزرو اہلکاروں کی شناخت کیپٹن کوڈی اے خورک (35) سکنہ ونٹر ہیون، فلوریڈا؛ سارجنٹ فرسٹ کلاس نوح ایل ٹیٹجینس (42) سکنہ بیلیو، نیبراسکا؛ سارجنٹ فرسٹ کلاس نکول ایم امور (39) سکنہ وائٹ بیئر لیک، مینیسوٹا؛ اور سارجنٹ ڈیکلن جے کوڈی (20) سکنہ ویسٹ ڈیس موئنز، آئیوا کے طور پر کی گئی ہے۔
79ویں تھیٹر سسٹینمنٹ کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل ٹوڈ ارسکائن نے ایک بیان میں چاروں اہلکاروں کے اہل خانہ اور یونٹ ارکان سے گہرے دکھ اور احترام کا اظہار کیا۔
امریکی فوج کے مطابق زیادہ تر ہلاک اہلکار بیرون ملک تعیناتی کا تجربہ رکھتے تھے۔ کیپٹن خورک 2018 میں سعودی عرب، 2021 میں کیوبا کے گوانتانامو بے اور 2024 میں پولینڈ میں تعینات رہ چکے تھے۔ نکول امور 2019 میں کویت اور عراق میں خدمات انجام دے چکی تھیں جبکہ نوح ٹیٹجینس 2009 اور 2019 میں کویت میں دو مرتبہ تعینات رہے۔ سارجنٹ ڈیکلن کوڈی نے 2023 میں آرمی ریزرو میں شمولیت اختیار کی تھی اور انہیں بعد از مرگ ترقی دی گئی۔

