نیویارک/لندن/کراچی: ایران کی جانب سے اسرائیل پر ڈرونز اور میزائل حملوں کے فوراً بعد عالمی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ جنگی صورتحال کی خبریں عام ہوتے ہی بین الاقوامی منڈیوں میں خام تیل اور سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے، جس نے عالمی مہنگائی کے ایک نئے طوفان کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔
جیسے ہی ایران نے جوابی کارروائی کا آغاز کیا، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں نے چھلانگ لگا دی۔برینٹ کروڈ (Brent Crude) 3 سے 5 فیصد اضافے کے ساتھ 95 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ معاشی ماہرین کا خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں سپلائی متاثر ہوئی تو قیمت 110 سے 120 ڈالر تک جا سکتی ہے۔
سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ جنگ پھیلنے کی صورت میں مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی ترسیل رک جائے گی، جو عالمی معیشت کو مفلوج کر سکتی ہے۔
غیر یقینی صورتحال میں دنیا بھر کے سرمایہ کاروں نے اپنا پیسہ اسٹاک مارکیٹ سے نکال کر سونے میں لگانا شروع کر دیا ہے۔عالمی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت میں 40 سے 60 ڈالر کا اچانک اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان سمیت ایشیائی ممالک میں سونے کی قیمتوں میں فی تولہ ہزاروں روپے اضافے کا امکان پیدا ہو گیا ہے کیونکہ سونا ہمیشہ جنگی حالات میں "محفوظ سرمایہ کاری” سمجھا جاتا ہے۔
نیویارک (Wall Street) سے لے کر ٹوکیو اور لندن تک، دنیا کے تمام بڑے مالیاتی مراکز میں مندی کا رجحان ہے:
دفاعی کمپنیوں کے علاوہ تقریباً تمام شعبوں کے حصص (Stocks) کی قیمتیں گر رہی ہیں۔
کرپٹو مارکیٹ: بٹ کوائن (Bitcoin) کرنسیوں میں بھی حملے کے آغاز کے بعد 7 سے 10 فیصد تک کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال تشویشناک ہے کیونکہ اگر عالمی منڈی میں قیمت برقرار رہی تو پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ناگزیر ہو جائے گا۔
ڈالر کی طلب بڑھنے سے روپے کی قدر پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
فریٹ چارجز (جہازوں کے کرائے) اور انشورنس ریٹس بڑھنے سے اشیائے ضروریہ مزید مہنگی ہو سکتی ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ "اگر یہ تصادم چند دنوں میں ختم نہ ہوا تو دنیا ایک بڑے عالمی معاشی بحران کی لپیٹ میں آ سکتی ہے جس کا اثر ہر عام آدمی کی جیب پر پڑے گا
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ : عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، سونے کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ،کرپٹو مارکیٹ بھی لیٹ گئی

