باکو (خصوصی رپورٹ): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے آذربائیجان کے شہر باکو میں منعقدہ ‘ورلڈ اربن فورم’ کے لیڈرز سمٹ سے تاریخی خطاب کرتے ہوئے دنیا کے سامنے 13 کروڑ سے زائد آبادی والے صوبے پنجاب کی ترقی، لچک (Resilience) اور عوامی عزم کی کہانی پیش کی ہے۔ انہوں نے فورم میں شرکت کو پنجاب کے لیے ایک بڑا اعزاز قرار دیتے ہوئے جدید شہری تبدیلی اور عالمی رابطوں کے لیے میزبان ملک کے وژن کو زبردست الفاظ میں سراہا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اپنے خطاب میں دونوں ممالک کے صدیوں پرانے عوامی اور تہذیبی روابط کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا:
باکو کا تاریخی پرانا شہر اور ملتان سرائے جیسے قدیم تجارتی راستے دونوں ملکوں کے مشترکہ رشتوں کے گواہ ہیں۔
I fully agree with this guiding principle. And this is what I’m taking home, Excellencies, because courage is at the heart of every meaningful reform and project I am pursuing for the last two years. From housing to urban resilience, every project I have undertaken is driven by a… pic.twitter.com/11xviSChHZ
— PMLN (@pmln_org) May 18, 2026
انہوں نے کہا کہ میرے والد قائد محمد نواز شریف اور آذربائیجان کے بانی حیدر علیئیف کا رشتہ محض سفارت کاری نہیں بلکہ اعتماد، احترام اور روح کا رشتہ تھا، جو آج بھی ہمارے تعلقات کی مضبوط بنیاد ہے۔
مریم نواز شریف نے صدر الہام علیئیف کے پائیدار ترقی کے وژن کی تعریف کی اور باکو میں اپنے قیام کو بالکل ‘اپنے گھر جیسا’ قرار دیا۔ وہ اپنے ساتھ وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی عوام کی طرف سے گرمجوش سلام بھی لائیں۔
"اپنی چھت اپنا گھر” اور دیہی ترقی کا انقلابی وژن
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ان کی حکومت شہروں کو صرف سڑکوں اور عمارتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی کہانیاں سمجھتی ہے جہاں عوامی وقار کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے پنجاب سوشل اکانومک registry کا حوالہ دیا جس کے تحت گھر گھر جا کر ڈیٹا اکٹھا کیا گیا تاکہ ترقی کے سفر میں کوئی پیچھے نہ چھوٹے۔
ہاؤسنگ سیکٹر میں انقلاب: پنجاب حکومت اپنے فلیگ شپ پروگرام "اپنی چھت اپنا گھر” کے تحت بلا سود قرضوں پر مبنی دنیا کا ایک بڑا رہائشی منصوبہ چلا رہی ہے۔ ایک سال سے بھی کم عرصے میں 1 لاکھ 60 ہزار خاندانوں کو ہاؤسنگ سپورٹ فراہم کی گئی ہے، جبکہ 1 لاکھ سے زائد خاندان اپنے ذاتی گھروں میں منتقل ہو چکے ہیں۔
ماڈل ویلیج پروگرام: دیہی علاقوں کی ترقی کو شہری استحکام کی بنیاد قرار دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2,000 سے زائد دیہاتوں کی تقدیر بدلی جا رہی ہے، جہاں صاف پانی، پکی گلیوں، نکاسی آب اور سولر انفراسٹرکچر کی فراہمی جاری ہے تاکہ کسی خاتون کو پانی کے لیے میلوں پیدل نہ چلنا پڑے۔
تاریخی انفراسٹرکچر، اسموگ کنٹرول اور گرین انرجی
صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب نے 2 ارب ڈالر سے زائد کے تاریخی اربنائزیشن ڈویلپمنٹ پروگرام کا آغاز کیا ہے۔
انفراسٹرکچر کی تعمیر: محض دو سال کے قلیل عرصے میں 30,000 کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں تعمیر اور مکمل کی جا چکی ہیں، جس نے معاشی سرگرمیوں کو بحال کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اب شہری سیلاب (Urban Flooding) کے خلاف منظم اور ڈیٹا پر مبنی انفراسٹرکچر بنایا جا رہا ہے۔
ماحولیاتی اقدامات اور کلین موبلٹی: اسموگ کنٹرول اور ہوا کے معیار کو اولین ترجیح دیتے ہوئے پنجاب کلین موبلٹی کے تحت پہلے مرحلے میں 1,100 الیکٹرک بسیں سڑکوں پر لائی جا چکی ہیں، جبکہ 2029 تک یہ ہدف 5,000 الیکٹرک گاڑیوں (بسوں، بائیکس اور ٹیکسیوں) تک بڑھایا جائے گا۔
شجرکاری اور کلائمیٹ فنڈ: ‘پلانٹ فار پنجاب’ مہم کے تحت صوبے بھر میں 5 کروڑ درخت لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پنجاب میں تمام ترقیاتی اخراجات کا ایک فیصد (1%) باقاعدہ کلائمیٹ ریزیلیئنس کے لیے وقف کر دیا گیا ہے۔
ثقافتی ورثہ، لاہور کی عالمی پہچان اور ستھرا پنجاب
وزیراعلیٰ نے فخر سے اس بات کا اظہار کیا کہ پاکستان کے ثقافتی دل لاہور کو 2026 سے 2027 کے لیے ‘ای سی او ٹورازم کیپیٹل’ (ECO Tourism Capital) قرار دیا گیا ہے، جسے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) نے بھی ایک بڑے سیاحتی مرکز کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ ‘میگنیفیشنٹ پنجاب’ کے تحت 100 سے زیادہ تاریخی، مذہبی اور آثارِ قدیمہ کے مقامات کی تجدیدِ نو کی جا رہی ہے۔
صفائی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ‘ستھرا پنجاب’ مہم کے تحت 1 لاکھ 50 ہزار سے زائد ورکرز روزانہ خدمات انجام دے رہے ہیں، جسے اب روایتی صفائی سے بڑھا کر ‘ویسٹ ٹو ویلیو’ (کچرے سے توانائی اور کھاد کی تیاری) اور سرکلر اکانومی کے جدید ماڈل پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے صوبے بھر میں ٹیکنالوجی سے لیس ‘سیف سٹی’ نیٹ ورک کو وسیع کیا گیا ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر مریم نواز شریف نے آذربائیجان کے صدر کے الفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ترقی ہمیشہ جرات اور حوصلہ مانگتی ہے اور ان کی حکومت کا ہر منصوبہ اسٹیٹس کو (جمود) کو بدلنے کے جرات مندانہ جذبے سے چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کامیابی تقریروں سے نہیں بلکہ عوام کی بدلی ہوئی زندگیوں سے ناپی جاتی ہے، اور رزیلینٹ و محفوظ شہر پوری انسانیت کا بنیادی حق ہیں۔
اپنے ولولہ انگیز خطاب کا اختتام انہوں نے "پاکستان زندہ باد، آذربائیجان زندہ باد” کے نعروں سے کیا۔

