واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کے سامنے اپنا سالانہ ‘سٹیٹ آف دی یونین’ خطاب کرتے ہوئے جنوبی ایشیا سمیت عالمی سیاست کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی میں مداخلت کر کے ایک ہولناک ایٹمی جنگ کو روکا، جس میں کروڑوں جانیں ضائع ہو سکتی تھیں۔
پاک-بھارت تنازع اور شہباز شریف کا تذکرہ
امریکی پارلیمنٹ سے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ مئی کے مہینے میں پاکستان اور انڈیا کے مابین تنازع اس قدر سنگین ہو چکا تھا کہ ایٹمی جنگ چھڑنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ بروقت مداخلت نہ کرتا تو اس جنگ کے نتیجے میں تقریباً تین کروڑ پچاس لاکھ (35 ملین) افراد لقمہ اجل بن سکتے تھے۔ انہوں نے اپنے اس اقدام کو عالمی امن کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔
ریکارڈ ساز خطاب اور اقتصادی ایجنڈا
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ خطاب ایک گھنٹہ اور 50 منٹ تک جاری رہا، جس نے سنہ 2000 میں بل کلنٹن کی جانب سے قائم کردہ طویل ترین خطاب کا ریکارڈ توڑ دیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے وائٹ ہاؤس واپسی کے پہلے سال کو ’تاریخی تبدیلی‘ کا سال قرار دیا اور اپنے اقتصادی ایجنڈے کی کامیابیوں پر زور دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپنے اقتدار کے پہلے 10 مہینوں میں انہوں نے دنیا بھر میں جاری ’آٹھ جنگیں‘ ختم کیں۔
ایران کے خلاف سخت موقف اور ‘آپریشن مڈ نائٹ ہیمر’
صدر ٹرمپ نے ایران کے جوہری عزائم پر سخت تنقید کی اور گزشتہ سال ہونے والے امریکی حملے، جسے ’آپریشن مڈ نائٹ ہیمر‘ کا نام دیا گیا، کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے کے باوجود تہران اپنے عزائم سے باز نہیں آیا۔ ٹرمپ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا:
"ایران دنیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست ہے، میں اسے کبھی بھی جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دوں گا۔”
انہوں نے واضح کیا کہ وہ مسئلے کا سفارتی حل چاہتے ہیں لیکن ان کی پالیسی ’طاقت کے ذریعے امن‘ (Peace through Strength) پر مبنی ہے، جس کے تحت امریکی فوج کو دنیا کی سب سے طاقتور ترین قوت بنایا جا رہا ہے۔
’میں مداخلت نہ کرتا تو پاک-بھارت ایٹمی جنگ میں ساڑھے 3 کروڑ لوگ مارے جاتے‘: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دھماکہ خیز دعویٰ

