کوہاٹ:خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پولیس کی گاڑی پر دہشتگردوں کی فائرنگ، ڈی ایس پی اسد محمود، سب انسپکٹر انار گل سمیت 5 پولیس اہلکار، گاڑی میں بیٹھا ایک ملزم اور ایک راہ گیر شھید ہو گئے۔
منگل کو خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کوہاٹ کے نواحی علاقے تحصیل لاچی شکردرہ روڈ پر پولیس وین پر شدت پسندوں کے حملے میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد شہید اور چار زخمی ہوگئے۔
دہشت گردوں نے بعد ازاں پولیس موبائل کو آگ لگا دی جس کے نتیجے میں چار جاں بحق پولیس اہلکار مکمل طور پر جھلس گئے، فائرنگ میں تین پولیس اہلکار شدید زخمی بھی ہوئے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کر لی۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف پہلی دفاعی لکیر ہے اور ان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ’صوبائی حکومت شہدا کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔‘
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’شہید ڈی ایس پی اسد محمود اور دونوں اہلکاروں نے اپنا آج قوم کے کل پر قربان کیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ دکھ کی گھڑی میں شہید ڈی ایس پی اسد محمود اور شہداءکے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
صدر آصف زرداری کا اظہار افسوس
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کوہاٹ میں پولیس گاڑی پر ‘فتنہ الخوارج’ کے دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے بزدلانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
صدر زرداری نے حملے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے ڈی ایس پی اسد محمود اور دیگر پولیس اہلکاروں کی عظیم قربانی کو سراہتے ہوئے انہیں بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "وطن کی خاطر جان قربان کرنے والے اہلکار ہماری قوم کا فخر ہیں۔”
صدرِ مملکت نے اپنے بیان میں عزم ظاہر کیا کہ ملک سے بیرونی سرپرستی میں پلنے والے دہشت گردی کے ناسور کا جڑ سے خاتمہ کیا جا رہا ہے اور ریاست اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی

