بے نقاب رپورٹ:اوکاڑہ میں دوستی کے پردے میں چھپا ایک ہولناک جرم بے نقاب ہو گیا، جس نے معاشرے کو لرزا کر رکھ دیا۔ نہر لوئر باری دوآب سے ملنے والی مرزا فرحان بیگ کی لاش کا معمہ حل ہوتے ہی یہ چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا کہ نوجوان کو اس کے اپنے ہی قریبی دوست نے اغواء کے بعد بے دردی سے قتل کیا۔
پولیس کے مطابق مقتول کو اس کے دوست معظم شاہ نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اغواء کیا، جہاں اسے تشدد کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ افسوسناک اور خوفناک پہلو یہ ہے کہ ملزم واردات کے بعد ورثاء کے ساتھ کھڑا ہو کر مقتول کی تلاش میں شریک رہا، بلکہ اغواء کے مقدمے میں بطور گواہ بھی سامنے آیا مگر حقیقت میں وہی اس اندوہناک جرم کا مرکزی کردار نکلا۔ پولیس نے جدید اور سائنسی بنیادوں پر تحقیقات کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو اس کے ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا۔ دورانِ تفتیش ملزم نے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ قتل کے اصل محرکات اور پس پردہ عوامل کو بے نقاب کیا جا سکے۔
راشد ہدایت، ڈی پی او اوکاڑہ کی ہدایت پر کیس کی باریک بینی سے چھان بین کے لیے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جس کا مقصد نہ صرف تمام حقائق کو سامنے لانا بلکہ ملزمان کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلوانا ہے۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ آج کے دور میں اندھا اعتماد بعض اوقات جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے جہاں دوست ہی دشمن بن جائے، وہاں انسانیت کا چہرہ بھی دھندلا جاتا ہے
دوستی کا بھیانک انجام، گواہ ہی قاتل نکلا،،اغواء کے بعد بے دردی سے قتل

