لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کے تعلیمی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تاریخ ساز اصلاحات کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ہر بچے کو معیاری تعلیم فراہم کرنا اور سرکاری اسکولوں کی حالت بدلنا ان کی اولین ذمہ داری ہے۔
اجلاس میں دی گئی بریفنگ کے مطابق، پنجاب پبلک اسکول ری آرگنائزیشن پروگرام کے تحت آؤٹ سورسنگ کے ماڈل نے حیرت انگیز نتائج دیے ہیں:
ریکارڈ انرولمنٹ: آؤٹ سورسنگ کے بعد اسکولوں میں داخلوں کی شرح میں 800 فیصد سے زائد کا ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔
انفراسٹرکچر کی تبدیلی: 9 ہزار سے زائد کمروں کی مرمت، 5 ہزار سے زائد ٹوائلٹس کی بحالی اور 1 لاکھ 60 ہزار نئے فرنیچر سیٹ فراہم کر کے اسکولوں کا نقشہ بدل دیا گیا ہے۔
ٹیچرز ڈریس کوڈ اور سپوکن انگلش
پنجاب کے اساتذہ اب ایک نئے روپ میں نظر آئیں گے۔ حکومت نے اساتذہ کے لیے ‘پروفیشنل ڈریس کوڈ’ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ تعلیمی ماحول میں وقار اور نظم و ضبط پیدا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ:
کمیونیکیشن سکلز: 344 اسکولوں میں ہزاروں طلبہ اور اساتذہ کے لیے ‘سپوکن انگلش کلاسز’ کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کا ہدف 5 لاکھ طلبہ تک رسائی ہے۔
ڈیجیٹل لرننگ: پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار ڈسٹنس لرننگ اور آڈیو ویژول تعلیمی نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
سیف اینڈ کلین اسکولز: ‘ستھرا پنجاب’ اور سی سی ٹی وی
وزیراعلیٰ نے ہر سرکاری اسکول کو ‘سیف اینڈ کلین زون’ بنانے کا حکم دیا ہے۔
اسکولوں کی صفائی کے لیے عالمی شہرت یافتہ پروگرام ‘ستھرا پنجاب’ کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔
طلبہ اور اساتذہ کے تحفظ کے لیے اسکولوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
امتحانی نظام میں انقلاب اور ای-چیکنگ
تعلیمی سال 2026 کے لیے اہم سنگ میل طے کر لیے گئے ہیں:
نئے ایگزامینیشن گریڈ سسٹم کے تحت 15 مارچ سے امتحانات شروع ہوں گے اور 31 مارچ کو رزلٹ جاری کر دیا جائے گا۔
شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے پنجاب میں پہلی بار آن لائن پیپر چیکنگ کا سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے۔
مارچ تک صوبے کے مختلف اضلاع میں 140 نواز شریف اسکول آف ایمیننس فنکشنل ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ 13 اضلاع میں 11 لاکھ سے زائد طلبہ کے لیے ‘اسکول میل پروگرام’ (مفت کھانا) کامیابی سے جاری ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہم سرکاری اسکول کا معیار ایسا بنانا چاہتے ہیں کہ ہر شہری فخر کے ساتھ اپنے بچے کو وہاں داخل کرائے۔ پنجاب کا ہر اسکول میری ذمہ داری ہے۔”

