وہاڑی: صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ملک کے حالات پہلے سے بہت بہتر ہو چکے ہیں اور مزید بہتر ہونے میں وقت لگے گا۔
منگل کو صوبہ پنجاب کے شہر وہاڑی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر زرداری نے صوبوں کی صورت حال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم تو سندھ اور بلوچستان تک محدود ہیں، پنجاب میں ہماری حکومت نہیں جبکہ کے پی والوں کی اپنی سوچ ہے۔‘
ان کے مطابق ’مجھے پتہ ہے کہ بلوچستان میں درد ہے، مجھے احساس ہے، میاں صاحب کوشش کر رہے ہیں، حالات پہلے سے بہتر ہیں، مزید بہتر ہونے میں وقت لگے گا۔‘
انہوں نے تحریک انصاف کے دور حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ملک میں چار سال عمران خان نہیں بلکہ جنرل فیض کی حکومت تھی اور ان کو کیا معلوم کہ حکومت کیسے کرنی ہے کیا ریلیف دینا ہے اور کیا نہیں۔‘صدر آصف زرداری نے پی ٹی آئی کی جانب سے سڑکوں کی بندش کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے کوئی کام نہیں کیا، جو بسیں چلانا تھیں ان کو سڑکوں پر کھڑا کرکے راستے بند کیے جا رہے ہیں۔
ان کے بقول ’ملک ایک برس رک جائے تو 10 سال پیچھے چلا جاتا ہے جبکہ یہ تو چار سال تک رکا رہا ہے۔‘
انہوں نے عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کو تقریریں کرنے اور سڑکیں بند کرنے کا شوق تھا۔ ’اب ڈیڑھ سال سے تقریر نہیں کی، بیٹا کہہ رہا ہے کہ ملنے نہیں دیا جا رہا۔‘
انہوں نے عمران خان کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ چیزیں برداشت نہیں کر سکتے تو کوئی کام کرو، کرکٹ کے دیوتا بن جاتے، ہر جگہ کلب بناتے۔ ایک پروفیشن چنتے، اگر سیاست کو چنا ہے تو اس میں ہر پروفیشن آتا ہے۔
’اگر نہیں تو پھر کوئی اور آسان کام کرو، یہ کام کرنا ضروری ہے، مدر ٹریسا بن جاتے، تم کرکٹ کے دیوتا بن جاتے، ہر جگہ کرکٹ کلب بناتے، ایک پروفیشن چنتے، اگر سیاست ہے تو پھر ہر پروفیشن اس میں آتا ہے۔‘
صدر آصف علی زرداری نے اپنے جیل کے ایام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے 14 سال جیل کاٹی اور جب میرے بچے مجھے ملے تو ان کے قد مجھ سے بڑے ہو چکے تھے۔‘
’بلاول کو بچہ چھوڑ کے گیا جب ملا تو چھ فٹ کا ہو چکا تھا۔ ایسی تکلیفیں زندگی کا حصہ ہیں ان کو برداشت کرنا ہی ہوتا ہے۔‘
انہوں نے اٹھارویں ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے اختیارات دیے تو ایک امریکی تھنک ٹینک نے اسے ان کی غلطی قرار دیا۔ ’میں نے کہا کہ مجھے پتہ ہے کہ میری دھرتی کو کیا چاہیے۔‘ان کا کہنا تھا کہ کسی نے مطالبہ بھی نہیں کیا تھا مگر انہوں نے خود اختیارات دیے تاکہ اسمبلیوں کو خودمختار کیا جا سکے۔
انہوں نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک کو جوہری طاقت بنانے کے لیے اپنی زندگی کو داؤ پر لگایا۔
ان کے مطابق ’بھٹو نے علاقائی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک کو جوہری قوت بنایا۔‘
ان کے بقول ملک پانچ سال میں نہیں بنتے بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے جو چلتا رہتا ہے۔
انہوں نے پاکستان کی آب و ہوا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اللہ نے ہمیں ہر قسم کی نعمت سے نوازا ہے مگر ہمارے پاس سوچ اور تسلسل کی کمی ہے۔‘
صدر نے زراعت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسی کی ترقی میں ملک کی ترقی ہے اور اس کے لیے پانی کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانا ہو گا۔
عمران خان کے پاس کوئی وژن نہیں تھا، چار سال ملک وہ نہیں جنرل فیض چلا رہے تھے: صدر زرداری

