تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
محکمہ پولیس کسی بھی ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔ جب یہی ریڑھ کی ہڈی کمزور پڑ جائے تو قانون محض کتابی عبارت اور انصاف ایک دل فریب نعرہ بن کر رہ جاتا ہے۔ پنجاب پولیس آج جن اصلاحات کے دور سے گزر رہی ہے، وہ تقریروں اور نوٹیفکیشنز سے نہیں بلکہ جرات مندانہ فیصلوں، مضبوط قیادت اور درست ٹیم کے انتخاب سے ہی کامیاب ہو سکتی ہیں۔آئی جی پنجاب عبدالکریم اگر واقعی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے “تیز، بے خوف اور شفاف انصاف” کے وژن کو حقیقت میں بدلنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے انہیں اپنے گرد موجود نظام کو فلٹر کرنا ہوگا۔ آر پی اوز اور ڈی پی اوز کی تعیناتیاں رسمی کارروائی نہیں بلکہ اہلیت، دیانت اور کارکردگی کے کڑے معیار پر ہونی چاہئیں۔ اسی طرح سنٹرل پولیس آفس میں بیٹھے ان چہروں کی اسکریننگ ناگزیر ہے جو بظاہر اصلاحات کے حامی مگر پس پردہ مزاحمت کی علامت بنے ہوئے ہیں۔ماضی گواہ ہے کہ خان بیگ، طارق سلیم ڈوگر اور سی سی پی او لاہور اسلم ترین جیسے افسران کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ اس تلخ حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ اگر ٹیم کمزور ہو تو مضبوط وژن بھی دفن ہو جاتا ہے۔ پنجاب جیسے بڑے صوبے کے پاس قابل، ایماندار اور پیشہ ور افسران کی کمی نہیں، پھر وہ پنجاب سے باہر کیوں خدمات سرانجام دے رہے ہیں؟ ایڈیشنل آئی جی شہزادہ سلطان،ڈی آئی جی عمران کشور، ڈی آئی جی بابر بخت قریشی، خیبر پختونخواہ میں ڈی آئی جی رضوان منظور، جہانزیب نذیر خان، موٹروے میں افضال کوثر، آئی بی سے حسن مشتاق سکھیرا اور حسن اسد علوی ایلیٹ فورس میں فیصل علی راجہ جیسے افسران پنجاب پولیس کی وہ پہچان ہیں جن پر کبھی بدعنوانی یا اختیارات کے غلط استعمال کا دھبہ نہیں لگا۔ یہی نہیں، ڈی آئی جی ویلفیئر کاشف کانجو، ڈی آئی جی رائے اعجاز، ڈی آئی جی آئی اے بی ڈاکٹر اختر عباس،ڈی آئی جی مصطفیٰ حمید ،ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن محمد ندیم اسلام آباد میں ڈی آئی جی سرفراز فلکی، ڈی آئی جی محمد علی نیکو کارا، ، فیصل رانا اور ناصر راجپوت جیسے افسران بھی اسی نظام کی پیداوار ہیں جنہیں نظرانداز کر کے دوسرے صوبوں کے حوالے کر دیا گیا۔ لاہور میں سپیشل برانچ اور دیگر حساس ذمہ داریوں پر تعینات ایس ایس پی افنان امین،اویس شفیق، عمران ملک، عمران کھوکھر فاروق سلطان، رضا صفدر کاظمی، ناصر محمود باجوہ، عطاالرحمن اور رضوان عمر گوندل جیسے افسران ڈی پی او شپ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، مگر انہیں سائیڈ لائن کر کے سفارش زدہ چہروں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ایس ایس پی ندیم عباس، شائستہ ندیم، رانا طاہر الرحمن، ذاہد نواز مروت اور وقار عظیم جیسے افسران بھی فیلڈ میں اپنی اہلیت ثابت کر چکے ہیں، مگر میرٹ کا دروازہ ان پر بند دکھائی دیتا ہے۔ اس کے برعکس “پیرا شوٹر افسران” سفارش کے سہارے اہم عہدوں پر قابض ہیں۔ یہی وہ طبقہ ہے جو ہر اصلاحاتی عمل کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ جب نااہلی کو طاقت اور اہلیت کو سزا دی جائے تو تھانوں میں زنجیریں، تشدد اور بے حسی ایک معمول بن جاتی ہے۔ آئی جی پنجاب کے باڈی کیمز، پینک بٹن، سیف سٹیز مانیٹرنگ، ٹریننگ پروگرامز اور احتسابی اقدامات بلاشبہ درست سمت میں قدم ہیں، مگر ان پر عمل کروائے گا کون؟ اگر نظام کی باگ ڈور انہی ہاتھوں میں رہے جو خود شفافیت سے نابلد ہوں تو یہ تمام اصلاحات فائلوں کی گرد میں دفن ہو جائیں گی۔ اب اصل امتحان وزیر اعلیٰ پنجاب اور چیف سیکرٹری کے سامنے ہے۔ اگر پولیس کو واقعی عوام دوست ادارہ بنانا مقصود ہے تو آئی جی پنجاب کو محض تقاریر نہیں بلکہ عملی اختیار دینا ہوگا۔ رضوان منظور، جہانزیب نذیر خان، افضال کوثر، حسن مشتاق سکھیرا اور حسن اسد علوی فیصل علی راجہ جیسے افسران کو آگے لانا ہوگا، نہ کہ سفارش کلچر کو نئی زندگی دی جائے۔ یہ وقت فیصلہ کن ہے۔ یا تو پنجاب پولیس پیشہ ورانہ بنیادوں پر ازسرنو کھڑی ہوگی، یا پھر اصلاحات بھی ماضی کی طرح ایک اور ناکام تجربہ بن کر تاریخ کا حصہ بن جائیں گی۔