تحریر:توفیق بٹ
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
بسنت کی خوشیاں ہمارے حکمرانوں کی تو پتہ نہیں غارت ہوئی ہیں یا نہیں داتا دربار کے قریب ایک خاتون اور اُس کی چھ سالہ بچی کے مین ہول میں گر کر جان بحق ہو جانے سے ہماری خوشیاں ضرور غارت ہو گئی ہیں۔ مجھ پر تو یہ سوچ کر ہی کپکپی طاری ہو جاتی ہے کس طرح سخت سردی میں سیوریج کے برفیلے پانی کا خاتون اور اُس کی بچی نے مقابلہ کیا ہوگا ؟ اور اس دوران اس کے شوہر اور دیگر عزیز و اقارب پر کیا گزری ہوگی ؟ قیامت کے ان لمحات کو انہوں نے کس طرح برداشت کیا ہوگا ؟ اس سے پہلے بھی کئی بار کئی بچے مین ہولوں کی نذر ہو گئے مگر اس بار جو واقعہ بلکہ جو سانحہ ہوا اُس پر لوگوں کے غم و غصے کی شدت اس لیے بھی زیادہ ہے جاں بحق ہونے والی خاتون کے شوہر نے جب اس سانحے کی اطلاع متعلقہ اداروں کو دی پہلے تو اُس بیچارے کا تمسخر اُڑایا گیا پھر اُس کی اس اطلاع کو ایک فیک نیوز قرار دے دیا گیا۔ حد یہ ہے پنجاب کی وزیر ”غیر مصدقہ اطلاعات“ عظمیٰ بخاری نے بھی اسے ”فیک نیوز“ قرار دیا۔ میں حیران ہوں ہماری وزیر اطلاعات کے پاس صحیح نیوز اور فیک نیوز بارے صحیح معلومات ہی نہیں ہوتیں؟ وزیراعلیٰ مریم نواز کو چاہیے اب کوئی اور محکمہ اُن کے ”سپرد خاک“ کر دیں۔ دوسری جس بات پر لوگوں کو شدید غم و غصہ ہے وہ جاں بحق ہونے والی خاتون کے شوہر کی گرفتاری ہے۔ میرا خیال تھا لاہور پولیس نے اُسے صرف گرفتار کیا ہو گا، مگر اگلے روز یاسر شامی نے اُس کی گرفتاری کے بعد اُس سے ہونے والی زیادتی اور ظلم کی جو تفصیلات اپنے وی لاگ میں بیان کیں وہ انتہائی کربناک ہیں۔ سچ پوچھیں یہ داستان مجھے خاتون اور بچی کی ہلاکت سے بھی زیادہ کربناک لگی۔ لاہور پولیس نے جاں بحق ہونے والی خاتون کے شوہر پر تشدد بھی کیا، پھر اُس سے اپنی مرضی کا جھوٹ بلوانے کی کوشش بھی کی کہ ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں۔ میرا خیال تھا سب سے زیادہ نوٹس وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اس بات پر لیں گی اور قصوروار پولیس افسروں کا صرف تبادلہ ہی نہیں اُنہیں عبرت کا نشان بنائیں گی، اُن کے لیے بھی اُسی طرح سخت سزاو¿ں کا حکم دیں گی جس طرح کی سخت سزاؤں کا حکم اُنہوں نے اس سانحے کے ذمہ دار سول محکموں کے افسران کے لیے دیا۔ ذمہ دار پولیس افسروں کے خلاف کوئی بڑا ایکشن نہ لے کر سچ پوچھیں وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے عوام کو بڑا مایوس کیا ہے، البتہ میں اُن کے اس کردار کو ضرور سراہنا چاہتا ہوں شاید پہلی بار ایسا ہوا ہے اُس ”کلاس“ کے افسروں کو بھی اُنہوں نے قصور وار ٹھہرا کر تبدیل کیا جو ”کلاس“ صرف اس سانحے کی ہی نہیں اس ملک کی ہر تباہی کی ذمہ دار ہے، مگر یہ بڑی بے حس اور بے شرم ”کلاس“ ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی سرزنش پر یہ سب سر جھکائے بیٹھے تھے، ابھی وہ شکر کریں وزیراعلیٰ نے کسی حد تک اپنے غصے پر قابو پائے رکھا اور اُن کی کرپشن کہانیاں اُن کے سامنے کھول کر نہیں رکھ دیں ورنہ وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتے۔ کچھ بے شرموں اور بے غیرتوں پر سرزنش کا بھی خاص اثر نہیں ہوا ہو گا کیونکہ اُن کا دین ایمان ہی صرف پیسہ ہے، جب تک اُنہیں نوٹ نہ دکھائے جائیں کوئی جائز کام کرنے کا اُن کا موڈ ہی نہیں بنتا، ناجائز کمائی کے مواقع بس اُنہیں میسر آتے رہیں پھر سیاسی یا اصلی حکمرانوں کی جانب سے ہونے والی اپنی بے عزتیوں کی کوئی پروا اُنہیں نہیں ہوتی۔ سیاسی و اصلی حکمرانوں کو ضرورت بھی ایسے ہی ”بے عزتی پروف افسروں“ کی ہوتی ہے۔ کیا زمانہ تھا جب ہمارے اکثر افسروں کا دین دھرم پیسہ نہیں ہوا کرتا تھا، وہ صرف عزت کو اہمیت دیتے تھے، عزت آبرو کے معاملے میں وہ اس قدر حساس تھے۔ مجھے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے، ایک بار میں نے ملک کے ایک نامور ادیب کئی کتابوں کے مصنف، صوفی دانشور اور سابق اعلیٰ بیوروکریٹ ڈاکٹر شہزاد قیصر سے پوچھا ”سر! آپ کی زندگی کا سب سے اذیت ناک لمحہ کون سا تھا؟“ میرا خیال تھا وہ فرمائیں گے ”جب میرے والد کا انتقال ہوا یا جب میری والدہ کا انتقال ہوا وہ لمحہ میرے لیے سب سے زیادہ اذیت ناک تھا“۔ اُنہوں نے ایسا کچھ نہیں کہا، وہ کچھ دیر سوچنے کے بعد بولے ”میری زندگی کا سب سے اذیت ناک لمحہ وہ تھا جب میں نیا نیا اسسٹنٹ کمشنر بنا ایک روز میرے اعلیٰ افسر نے ایک فائل پر میری نوٹنگ دیکھ کر مجھ سے کہا ”تم بڑے نکمے افسر ہو“، میں وہ لمحہ آج تک نہیں بھولا، پھر میں نے بہت محنت کی اور ریٹائرمنٹ تک وہ لمحہ نہیں آنے دیا جب کسی حکمران یا میرے کسی باس نے دوبارہ مجھ سے کہا ہو، ”تم بڑے نکمے افسر ہو“۔ اب ہمارے اکثر افسروں کی حالت یہ ہے اُنہیں گالیاں نکالی جاتی ہیں اور اُن پر کوئی اثر ہی نہیں ہوتا، گالیاں سُننے کا ایسا چسکا اُنہیں پڑ گیا ہے وہ بار بار ایسی حرکتیں کرتے ہیں جس پر بار بار اُنہیں گالیاں نکالی جاتی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی میٹنگ میں جتنے افسران بیٹھے تھے ممکن ہے اُن میں سے کچھ باہر نکل کر دندیاں نکال رہے ہوں صرف بے عزتی ہوئی ہے تبادلہ نہیں ہوا۔ اس سانحے پر پہلی بار میں نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو صحیح معنوں میں غم زدہ دیکھا، کوئی ایسی مصنوعیت یا اداکاری اُن کے چہرے پر دکھائی نہیں دی جس کا عموماً لوگ ذکر کر کے اُن کا تمسخر اُڑاتے ہیں، میرے دل میں اُن کی قدر اور عزت میں اضافہ ہوا ہے، میں یہ بات اب زیادہ آسانی سے کہہ سکوں گا ”اُن کی کارکردگی چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے ہزار درجے بہتر ہے“۔ خصوصاً اُس بزدار عرف ”بُودار“ سے تو لاکھوں اربوں درجے بہتر ہے جو پنجاب میں آیا ہی صرف لُوٹ مار کے لیے تھا، اُس کا پرنسپل سیکرٹری بھی اُسی جیسا نااہل اور بد دیانت تھا، جبکہ مریم نواز شریف نے بطور پرنسپل سیکرٹری اپنے لیے جس افسر (ساجد ظفر ڈال) کا انتخاب کیا اُس کی محنت اہلیت اور دیانت میں کوئی شبہ ہی نہیں ہے۔ مجھے یاد ہے ایک بار گورنر ہاو¿س لاہور میں بزدار عُرف ”ب±ودار“ سے میری اچانک ملاقات ہوئی، اُس نے مجھ سے کہا ”میرے لائق کوئی حکم خدمت ہو تو بتائیے گا“۔ میں نے عرض کیا ”حکم تو کوئی نہیں بس ایک عرض ہے میں شادمان میں جہاں رہتا ہوں اُس کے قریب ایک سڑک کے ننگے مین ہول پر ڈھکنا رکھوا دیں“۔ میں نے یہ کام اُسے اُس کی اہلیت کے مطابق ہی بتایا تھا۔ پنجاب کی بیوروکریسی سے میری گزارش ہے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے اُن کی اہلیت کے مطابق کام لیں، اُنہیں چھوٹے چھوٹے کاموں میں مت اُلجھائیں۔

