اسلام آباد/کراچی : عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال اور امریکی ڈالر کی اچانک مضبوطی کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتوں میں جمعہ کے روز ریکارڈ گراوٹ درج کی گئی ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں سرمایہ کاروں نے پرافٹ بکنگ کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں قیمتی دھاتوں کے نرخ زمین پر آ گرے۔
مقامی مارکیٹ کی صورتحال: اتار چڑھاؤ کا نیا ریکارڈ
پاکستان کی صرافہ مارکیٹ میں گزشتہ دو روز کے دوران قیمتوں میں غیر معمولی ہیجان دیکھا گیا۔
سونے کی قیمت:
جمعرات کو سونا 21 ہزار 200 روپے کے بڑے اضافے کے ساتھ 5 لاکھ 72 ہزار 862 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا، تاہم جمعہ کو اس میں 35 ہزار 500 روپے کی ریکارڈ کمی ہوئی، جس کے بعد نئی قیمت 5 لاکھ 38 ہزار 362 روپے فی تولہ ہو گئی۔
10 گرام سونا: دس گرام سونے کے نرخ بھی 30 ہزار 435 روپے کی کمی کے بعد 4 لاکھ 60 ہزار 701 روپے پر آ گئے۔
چاندی کی قیمت:
چاندی بھی اس بحران سے محفوظ نہ رہ سکی اور ایک ہی دن میں 1106 روپے کی بڑی گراوٹ کے بعد 11 ہزار 69 روپے فی تولہ کی سطح پر آ گئی۔
عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کا کریش
بین الاقوامی منڈی میں سونے کی قیمت میں 12 فیصد، چاندی میں 26 فیصد اور پلاٹینم میں 18 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔ نیویارک میں سپاٹ گولڈ تقریباً 9 فیصد گر کر 4,894 ڈالر فی اونس پر بند ہوا۔ ماہرین کے مطابق 1980 کی دہائی کے بعد یہ انٹرا ڈے (ایک ہی دن کے دوران) ہونے والی سب سے بڑی گراوٹ ہے۔
قیمتوں میں کمی کی پانچ بڑی وجوہات
معاشی ماہرین اور عالمی تجزیہ کاروں نے اس گراوٹ کے پیچھے درج ذیل عوامل کی نشاندہی کی ہے:
فیڈرل ریزرو میں تبدیلی:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیون وارش کو فیڈرل ریزرو کا نیا چیئرمین نامزد کیے جانے کی خبر نے مارکیٹ کا رخ بدل دیا۔ وارش کو افراطِ زر پر قابو پانے کے حوالے سے ایک سخت گیر ماہرِ معاشیات سمجھا جاتا ہے، جس سے ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا۔
مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ میں کمی:
صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کے عندیہ اور جنگی کشیدگی میں کمی کے بیان نے جیو پولیٹیکل خطرات کو کم کر دیا، جس سے سرمایہ کاروں نے ‘سیف ہیون’ (سونا) چھوڑ کر دیگر اثاثوں کا رخ کیا۔
امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن ٹل گیا:
وائٹ ہاؤس اور ڈیموکریٹس کے درمیان عارضی معاہدے نے امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن کا خطرہ ٹال دیا، جس سے معاشی استحکام کی امید پیدا ہوئی۔
تکنیکی اصلاح (Technical Correction): سونے اور چاندی کا ریلیٹو سٹرینتھ انڈیکس (RSI) 90 کی سطح تک پہنچ گیا تھا، جو اس بات کی علامت تھی کہ مارکیٹ "اوور باؤٹ” (ضرورت سے زیادہ خریداری) کا شکار ہو چکی ہے اور قیمتوں میں بڑی کمی ناگزیر تھی۔
پرافٹ بکنگ:
قیمتوں کے ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے بعد بڑے سرمایہ کاروں نے اپنے منافع حاصل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر فروخت شروع کر دی، جس نے قیمتوں کو نیچے دھکیل دیا۔
اسٹاک مارکیٹ اور کان کن کمپنیوں پر اثرات
اس کریش کا اثر صرف دھاتوں تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا بھر کی بڑی مائننگ کمپنیوں کے حصص میں بھی 10 فیصد سے زائد کی کمی دیکھی گئی۔ بھارت میں سونے اور چاندی کے ای ٹی ایف (ETFs) میں بھی بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
اگرچہ جنوری کے مہینے میں سونے کی قیمت میں مجموعی طور پر اب بھی 13 فیصد اضافہ موجود ہے، لیکن جمعہ کی اس بڑی گراوٹ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ عالمی معاشی اور سیاسی تبدیلیوں کے سامنے قیمتی دھاتیں بھی بڑے اتار چڑھاؤ سے محفوظ نہیں ہیں۔
تاریخی کریش: سونے اور چاندی کی اڑان تھم گئی؛ پاکستان میں فی تولہ سونا 35 ہزار روپے سے زائد سستا

